.

چینجلوں سے نمٹنے کے لئے نئی پاکستانی حکومت کی مدد کریں گے: ہیگ

"الطاف کیس پولیس کا معاملہ ہے، برطانوی حکومت کا تعلق نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں امن عمل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دوحہ میں طالبان کا دفتر عارضی بندش کے بعد جلد ہی دوبارہ کھل جائے گا۔

اس سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بدھ کو اسلام آباد میںا سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے پاکستان میں عام انتخابات کے کامیاب انعقاد پر پاکستانی قوم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات میں پاک برطانیہ دو طرفہ تعلقات کے علاوہ افغانستان میں قیام امن سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2014ء میں افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلاء سے قبل یورپی ممالک کی قیادت کے پاکستان کے متواتر دورے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اس انخلاء اور اس سے بعد کی صورتحال میں ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ کا موجودہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر افغان امن عمل کامیاب ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ دوحہ میں افغان طالبان کے دفتر کی بندش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ولیم ہیگ نے کہا کہ ’ہم نے آج طالبان کے دفتر سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم امن عمل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ برطانیہ طویل عرصے سے افغانستان میں قیام امن کی حمایت کرتا آیا ہے‘۔

طالبان کے دفتر کی بندش کے حوالے سے ہی ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ طالبان کا دفتر جھنڈا لہرانے کے معاملے سے اٹھنے والے تنازعے کے بعد عارضی طور پر بند ہوا ہے اور امید ہے کہ وہ امریکی حکام اور پھر اس کے بعد افغان سپریم امن کونسل کے ساتھ مذاکرات کے لیے جلد ہی دوبا رہ کھل جائے گا۔

دونوں رہنماؤں کو شام میں باغیوں کی مبینہ مدد کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ شام میں باغیوں کی مدد کے لیے ہتھیار بھجوانے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ولیم ہیگ نے کہا کہ برطانیہ نے ابھی تک مشرق وسطیٰ کے کسی بھی تنازعے میں ہتھیار بھجوانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ’’ہم شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف طریقوں سے، جن میں انسانی جانیں بچانے والے آلات اور ادویات وغیرہ فراہم کرنا شامل ہے، مدد کر رہے ہیں۔ تاہم ولیم ہیگ کے مطابق مستقبل میں باغیوں کی مدد کے لیے کسی بھی چیز کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستانی جنگجوؤں کی جانب سے شامی باغیوں کی مدد کے لیے جانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے حوالے سے سرتاج عزیز نے کہا کہ ’پاکستان یا اس کے اداروں کا اس افواہ کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ حقائق معلوم نہیں ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ چند لوگ جو مشرق وسطیٰ عمرے یا کسی اور کام کے لیے جاتے ہیں، وہاں سے (شام) چلے گئے ہوں، لیکن یقیناﹰ اس میں پاکستان کے ریاستی ادارے ملوث نہیں ہیں اور ہم اس طر ح کی چیزوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے کیونکہ ہم ایسی چیزوں پر یقین نہیں رکھتے‘۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان میں تشدد کو ہوا دینے اور مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں ایک سوال پر ولیم ہیگ نے کہا کہ یہ معاملہ پولیس کے پاس ہے اور برطانیہ میں پولیس اور استغاثہ کے فیصلے حکومت کے سیاسی فیصلوں سے الگ ہوتے ہیں۔