پاکستان فوج کے زیرانتظام ہاوسنگ سوسائٹی کے اکاؤنٹ منجمد

سپریم کورٹ کا ای او بی آئی اسکینڈل میں ازخود نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی عدالت عظمی نے بڑھاپے کی مراعات کے قومی ادارے [ای او بی آئی] کے ساتھ زمین کی فروخت کے معاہدے میں مبینہ بے قاعدگیوں پر فوج کے زیر انتظام ادارے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد اور راولپنڈی کے بنک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔عدالتی حکم کے مطابق ڈی ایچ اے اسلام آباد اور راولپنڈی ای او بی آئی سکینڈل کی رقم ادا کرنے تک کوئی نیا اکاؤنٹ بھی نہیں کھلوا سکتی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ای او بی آئی کے سابق چیئرمین ظفر گوندل کے دور میں مبینہ طور پر ادارے میں 40 ارب روپے سے زائد کی کرپشن پر ازخود نوٹس کی سماعت جمعہ کے روز کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈی ایچ اے انتظامیہ یہ بات ذہن سے نکال دے کہ وہ قانون سے بالاترہے یا اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ غریب اور نادار بوڑھے پنشنروں کی رقم ہے، جو ضرور واپس لائی جائے گی۔

عدالت نے گزشتہ بدھ کو سماعت کے دوران ڈی ایچ اے حکام سے جمعہ [انیس جولائی] تک بائیس ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی حکم کی مقررہ وقت میں تعمیل نہ ہونے پر بنک کھاتے منجمد کیے گئے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ڈی ایچ اے کی جانب سے رقم کی ادائیگی تک اکاؤنٹ منجمد ہی رہیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے 29 جون کو ایک نجی نیوز چینل پر نشر کیے گئے اس پروگرام پر از خود نوٹس لیا، جس کے مطا بق ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن میں زمنیوں کی خرید و فروخت کے متعدد سودوں میں 40 ارب سے زائد کی کرپشن کی گئی ہے۔ ای او بی آئی ایک ایسا ادارہ ہے، جو مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور نجی شعبے میں ملازمت کرنے والے ملازمین کی تنخواہ کے ایک مخصوص حصے کی کٹوتی کرتا ہے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں پنشن اور دیگر مراعات کی مد میں واپس کرتا ہے۔ تاہم سابق چئیرمین ظفر گوندل، جو کہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں وفاقی وزیر رہنے والے نذر گوندل کے بھائی ہیں، کے دور میں مختلف اداروں سے زمینیں مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں غیر قانونی طریقے سے انتہائی مہنگے داموں خریدی گئیں۔ ان زمینوں کی خریداری کے لئے ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز سے بھی اجازت نہیں لی گئی۔ ای او بی آئی نے ڈی ایچ اے اسلام آباد راولپنڈی سے 321 کنال زمین 22 ارب روپے کے عوض خریدی۔

داریں اثناء ڈی ایچ اے کے وکیل اور سابق نگران وزیر قانون احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی کی رقوم زمین کی خریداری اور ڈیویلپمنٹ پر خرچ کی گئیں اوراس ضمن میں تمام معاہدے قانون کے مطابق کیے گئے۔ احمر بلال صوفی کے مطابق ڈی ایچ اے نے اس منصوبے میں بحریہ ٹاؤن نامی پراپرٹی ڈیویلپرز کو ترقیاتی کاموں کے لئے گیارہ ارب روپے کی رقم ادا کی ہے۔ احمر بلال صوفی نے کہا کہ عدالت ایسا حکم نہ دے، ورنہ ڈی ایچ اے میں زمینوں کی قیمتیں گر جائیں گی۔

ادھرعدالتی حکم کی روشنی میں اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق ای بی او آئی اور ڈی ایچ اے کے درمیان ڈیل میں غیر شفافیت واضح ہے۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اعظم خان کے مطابق زمین نہ صرف مہنگے داموں فروخت کی گئی بلکہ ڈی ایچ اے نے وہاں پر ابھی ترقیاتی کام بھی شروع نہیں کرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک پانچ ایسے منصوبوں کا پتہ چلایا گیا ہے، جن میں بےضابطگیاں ہوئی ہیں۔

ای او بی آئی نے چکوال میں ساٹھ ہزار روپے فی مرلہ قیمت والی زمین پندرہ لاکھ روپے فی مرلہ کے حساب سے خریدی۔ ایف آئی اے کے مطابق اس ڈیل میں ایک سابق وزیر اعظم کے قریبی رشتہ دار بھی ملوث ہیں۔ اعظم خان کے مطابق اس سکینڈل میں ملوث تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے گئے ہیں اور ای او بی آئی کے سابق چیئرمین ظفر اقبال گوندل کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ ان کی جائیداد ضبط کر لی گئی ہے۔ اس مقدمے میں اب تک ای او بی آئی کے تین افسران کو حراست میں لیا گیا ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو اس سکینڈل میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمے درج کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فوج کے زیر انتظام ڈی ایچ اے کے ادارے کے اکاؤنٹس منجمند کیے گئے ہیں۔ فوج کے سربراہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے کا میڈیا میں آنے کے بعد خود نوٹس لیتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں