آئی ایس آئی کے سکھر دفتر پر خودکش حملہ، 3 جاں بحق، 5 دہشت گرد ہلاک

حملہ آوروں نے پہلے بارود سے بھری گاڑی ہیڈکوارٹر کی عمارت سے ٹکرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں متعدد بم دھماکوں اور آئی ایس آئی کے مقامی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ کمپاؤنڈ کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے کراچی سے 500 کلومیٹر دور واقع شہر سکھر کے علاقے بیراج کالونی میں آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر پر بدھ کو ہونے والے خودکش حملے میں سات افراد کی ہلاکت اور کم از کم چالیس افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق سکھر میں کیر تھر کینال کے قریب بیراج کالونی میں واقع آئی ایس آئی دفتر سے افطار کے وقت دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی۔ دہشت گردوں کا نشانہ دیگر حساس اداروں کے دفاتر بھی تھے جن کی عمارتوں کو بھی دھماکے میں بری طرح نقصان پہنچا اور آئی ایس آئی کی عمارت منہدم ہو گئی۔

بیراج کالونی انتہائی سیکورٹی زون ہے جہاں آئی ایس آئی کمپلیکس کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس کمپلیکس شہباز رینجرز ہیڈکوارٹر، کمشنر ہاؤس، ڈی آئی جی ہاؤس، سرکٹ ہاؤس، محکمہ آبپاشی کے حکام کی رہائش گاہیں اور چیف انجینئر کے دفتر کے علاوہ رہائشی کالونی بھی ہے۔

افطار کے وقت دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی بیراج کالونی سے ٹکرا دی جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ آئی ایس آئی کی عمارت کے علاوہ کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ دھماکے کے بعد 5 خودکش حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے کالونی کے اندر داخل ہو گئے اور انہوں نے سیکورٹی اہلکاروں اور دفاتر پر بم بھی پھینکے.

اس دوران سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا ۔ بم حملوں اور فائرنگ سےعورتوں اور بچوں سمیت 50 کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔ کئی افراد لاپتہ ہو گئے۔ لوگ اپنے عزیزوں کو ڈھونڈتے رہے ۔ فائرنگ کے تبادلے میں تمام خودکش حملہ آور مارے گئے۔ ایک سینئر پولیس آفیشل نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ انتہائی منظم طریقے سے کیا گیا خود کش حملہ تھا۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے اور اس کی رپورٹ فوری طور پر طلب کر لی ہے جبکہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے بھی سکھر میں بم دھماکوں اور فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ذمے داران کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

دہشت گرد اس سے قبل لاہور، راولپنڈی، ملتان پشاور اور فیصل آباد سمیت مختلف علاقوں میں منظم طریقے سے حملے کر چکے ہیں لیکن سکھر میں یہ اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے۔ گذشتہ برس شدت پسندوں نے پاکستان کے سب سے بڑے ہوائی اڈے کامرہ پر حملہ کر کے ایک جہاز کو تباہ کر دیا تھا۔

اس سے ایک سال قبل پاکستانی طالبان نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نیول بیس پر حملہ کیا تھا جہاں دس گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس فوجی اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔ سنہ 2010 میں تحریک طالبان پاکستان نے ہی وفاقی دارالحکومت سے متصل راولپنڈی میں آرمی کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں