.

پاکستان: کرم ایجنسی میں دوہرے بم دھماکے، 42 ہلاکتیں

ایک دھماکا پارہ چنار بازار جبکہ دوسرا سکول روڈ پر ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں دو مخلتف دھماکوں میں کم از کم 42 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پارہ چنار کے مرکزی بازار میں جمعہ کے روز دو دھماکے ہوئے جس کے دوران یہ ہلاکتیں پیش آئیں جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بازار میں ہونے والے مرکزی دھماکے میں ایک موٹر سائیکل پر بارودی مواد رکھا گیا تھا۔ دوسرا دھماکہ مین سکول روڈ پر ہوا۔

اس سے قبل ایک الگ واقعے میں قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے شیرکو روڈ پرنصب ایک دیسی ساختہ بم ( آئی ای ڈی) سے دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نےعلاقے میں پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے عہدیداروں نے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مسافر گاڑی کرم کے شمال مغربی علیزئی علاقے سے پارہ چنار جاری تھی کہ اسے روڈ سائیڈ بم سے نشانہ بنایا گیا۔ تمام زخمیوں کو ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سینیئر میڈیکل افسر ڈاکٹر زاہد نے کہا کہ ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد زخموں کے شکار چھ دیگر افراد پارہ چنار ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

لوئر کرم کا علاقہ فاٹا (وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں) میں حساس ترین خطوں میں شامل ہے جس کی سرحد ایک ساتھ افغانستان کے تین صوبوں سے ملتی ہے اور یہ سرحد پار دہشتگردوں کی آمد و رفت کا راستہ بھی ہے۔

لوئر کرم کو برسوں قبل فوجی آپریشن سے کلیئر کرا دیا تھا تھا لیکن دہشت گرد اب بھی فرقہ وارانہ حملے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔