.

پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا

تاریخ کی تبدیلی قبول نہیں، بائیکاٹ وفاق کی خاطر کیا: رضا ربانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے ذریعے صدارتی انتخاب کی تاریخ تبدیل کرنے کے خلاف بطور احتجاجا صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کر دیا ہے۔

اس امر کا اعلان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم کے ہمراہ پی پی پی کے مجوزہ صدارتی امیدوار سینیٹر رضا ربانی نے ایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب میں جمعہ کے روز کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے حکومت وفاقیت کے برعکس ملک میں ون یونٹ کی سوچ کو آگے لا رہی ہے۔ رضا ربانی کے بقول اس صورتحال میں اپوزیشن کی طرف سے صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے مشورے کے بعد اس امر کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انہوں نے اپنی ابتدائی گفتگو میں یہ واضح نہیں کیا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اس بائیکاٹ کا حصہ ہیں یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں 16 جولائی کو جاری کیے گئے ملک کے بارہویں صدارتی انتخاب کے حتمی امیدواروں کی فہرست سامنے آنے سے پہلے ہی بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نے سارے صدارتی انتخابی عمل اور 30 جولائی کو متوقع صدارتی انتخاب کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ''اٹھارہویں اور بیسویں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن آزاد ہو گیا تھا اور توقع تھی کہ الیکشن کمیشن مثبت انداز میں اپنی آزادی اور اختیار کا استعمال کرے گا۔ جیسا کہ 20 جولائی کو میڈیا کے ذریعے الیکشن کمیشن کا حکومتی خواہش پر مبنی خط پر یہ جواب بھی سامنے آیا کہ صدارتی الیکشن کی تاریخ آگے کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں اور بیسویں ترمیم میں ملی آزادی کو یہ کہہ کر ضائع کر دی گئی کہ اگر سپریم نے کہا تو تاریخ تبدیل کی جا سکتی ہے، گویا حکومت کو الیکشن کمیشن خود راستہ دکھا دیا۔''

پیپلز پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار نے عدالت کے حوالے سے بھی موقف اختیار کیا کہ حکمران مسلم لیگ 23 جولائی کو صدارتی انتخاب کی نئی تاریخ سے متعلقدرخواست سامنے آئی ۔ کسی دوسرے فریق کا موقف سنے بغیرسپریم کورٹ نے اگلےہی روز 24 جولائی کو وہ فیصلہ دیدیا جو مسلم لیگ نے چاہا تھا۔

رضا ربانی نے کہا کہ ''میں اس نظام کا باغی ہوں جو رجعت پسند قوتوں، ذاتی و گروہی مفادات اور ریاستی اداروں کی بنیاد پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ حکومت اپوزشن کے ساتھ ہمارے رابطوں سے بوکھلا گئی ہے ان رابطوں اور جدوجہد کے نتیجے میں صدارتی انتخاب میں کامیابی اپوزیشن کے قدم چوم سکتی تھی۔ حکومتی حیلوں اور بہانوں کے بعد ہم نے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔