.

پاکستان کے دونوں صدارتی امیدوار کبھی پارلیمان کا حصہ نہیں رہے!

پہلی بار ایک بھی امیدوار دیہی پس منظر نہیں رکھتا، دونوں کراچی سے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں تیس جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے سامنے آنے والے دونوں امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی کبھی کسی صوبائی اسمبلی یا پارلیمنٹ کا رکن نہیں رہا ہے، فوجی پس منظر رکھنے والے سابق صدور کے علاوہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے منتخب ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ ایسے صدر کا انتخاب کریں گے جو سرے سے پارلیمانی تجربہ نہیں رکھتا۔

ہفتے کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے صدارتی امیدواروں کی جو حتمی فہرست جاری کی گئی ہے، اس کے مطابق چوبیس ابتدائی امیدواروں میں سے اب صرف دو امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ اتفاق سے اس فہرست میں حروف تہجی کے اعتبار سے بھی امیدواروں میں پہلے نمبر پر مسلم لیگ [نواز] کے نامزد کردہ ممنون حسین کا نام ہی اوپر ہے اور امکانی جیت بھی انہی کی ہے، جبکہ دوسرا نام جسٹس [ریٹائرڈ] وجیہ الدین احمد کا ہے جن کی جیت کا اب تک دستیاب اعداد وشمار کے مطابق امکان نہیں ہے ۔

الیکشن کمیشن کے رائج طریقے کے تحت صدارتی انتخاب کے لیے زیر طباعت خفیہ بیلٹ پیپر میں بھی ممنون حسین کا نام حروف تہجی کی ترتیب کے باعث اوپر ہو گا۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں صدارتی امیدوارعروس البلاد کراچی کے مکین ہیں جن میں ایک کی جیت یقینی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے اس اعلی ترین ریاستی منصب کے لیے کوئی دیہی پس منظر رکھنے والا امیدوار میدان میں نہیں ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مذکورہ بالا دونوں امیدواروں میں سے کسی کو پارلیمانی اداروں کا رکن رہنے کا اعزاز تو کبھی نہیں مل سکا لیکن اب ان میں سے ایک بطور صدر پارلیمان کا بھی حصہ بنے گا اور ریاستی سربراہ بھی ہو گا۔