.

شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں سات افراد ہلاک

رمضان المبارک کے دوران یہ تیسرا ڈرون حملہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں سات افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران یہ تیسرا امریکی ڈرون حملہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاسوس طیارے نے افغان سرحد کے قریب پاکستانی قبائلی تحصیل شوال کے علاقے زوئے نرائے میں ایک کمپائونڈ کو نشانہ بنایا اور دو میزائل داغے جس کے نتیجے میں کمپائونڈ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے جن کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان انٹیلیجنس افسران کے مطابق شمالی وزیرستان کے شوال علاقے میں اتوار کو اس وقت حملہ ہوا جب افغانستان سے کچھ افراد پاکستانی علاقے میں داخل ہو رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

واقعے میں تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ اطلاعت کے مطابق حملہ افطار کے 15 منٹ بعد کیا گیا جسکے دوران دو میزائل داغے گئے جس کا ہدف ایک مکان تھا۔ حملے کے باعث مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ علاقے میں ڈرون طیاروں کی گشت جاری ہے۔

دوسری جانب انٹیلیجنس ذرائع بعض میڈیا آؤٹ لیٹ سے گفتگو میں دعوی کر رہے ہیں کہ حملے میں کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، تاہم انکی شناخت نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان کو پاکستانی، افغان اور القاعدہ سے منسلک غیر ملکی شدت پسندوں کا گڑھ مانا جاتا ہے جبکہ امریکی ڈرون پروگرام دونوں ممالک کے درمیان سخت تناؤ کا باعث ہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کرنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ ان علاقوں میں پاکستانی حکومت عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے فوجی حکمت عملی نہیں اپناتی۔ تاہم پاکستان کا اس حوالے سے موقف ہے کہ ڈرون حملے اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔