.

طالبان کا پاکستانی جیل پر حملہ، درجنوں قیدی رہا کرا لیے گئے

ڈی آئی خان جیل سے سنگین جرائم میں ملوث 40 چالیس قیدی بھی فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کی جیل پر حملہ کر کے تین سو کے قریب قیدیوں کو رہا کرا لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس جیل میں کم از کم چالیس ’بڑے مجرم‘ قید تھے۔ سینٹرل جیل پر دہشت گرد حملے کے بعد ڈی آئی خان میں کرفیو نافذ کردیا گیا جبکہ وائرلیس سروس معطل کردی گئی۔

یہ واقعہ پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں پیر کی شب پیش آیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے 150 جنجگو اس کارروائی میں شریک تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد مارے گئے جبکہ نو دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ حکام نے منگل کی صبح بتایا کہ فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد دو سو زائد ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق حملہ آور پولیس اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوس اور بندوقوں، راکٹ لانچروں، دستی بموں اور دیگر ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس حملے کا اصل ہدف بظاہر عسکریت پسندوں کے ساتھیوں کی رہائی تھا۔ انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا۔

مقامی رہائشی شرافت خان نے بتایا کہ حملے کے وقت اتنا زور دار دھماکہ ہوا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا۔ انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق اس بڑے حملے کے بعد عسکریت پسندوں نے جیل کے احاطے کی بیرونی دیوار گرانے کی خاطر کئی دیگر چھوٹے دھماکے بھی کیے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے بتایا کہ دیوار گرنے کے بعد پولیس یونیفارم پہنے ہوئے کم از کم آٹھ عسکریت پسندوں نے ’اللہ اکبر‘ اور ’طالبان زندہ باد‘ کے نعروں کے ساتھ دھاوا بول دیا۔ ان حملہ آوروں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی مسلح جھڑپ بھی ہوئی۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان کے ڈپٹی کمشنر خان مشتاق جدون کے بقول حملہ آوروں نے راکٹ لانچروں اور دستی بموں کا استعمال بھی کیا۔

جیل کا کنٹرول سکیورٹی فورسز نے دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ اس سے قبل فوج کو طلب کیا جا چکا تھا جبکہ شہر کا چاروں طرف سے محاصرہ بھی کر لیا گیا تھا لیکن چونکہ حملہ آور پولیس یونیفارم پہنے ہوئے تھے، اس لیے ان کی شناخت میں مشکل رہی تھی۔ ڈپٹی کمشنر ٹانک کے مطابق حملے کے بعد ضلع ٹانک میں بھی کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے محمکہ جیل خانہ جات سے منسلک عہدیدار خالد عباس کے بہ قول اس جیل میں چالیس ’ہائی پروفائل‘ قیدی موجود تھے۔ ’’ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا ان میں سے بھی کوئی فرار ہوا ہے یا نہیں۔‘‘جدون کے مطابق عسکریت پسند ایک لاؤڈ اسپیکر کی مدد سے مخصوص قیدیوں کے نام پکار کر ان سے فرار ہونے کے لیے کہہ رہے تھے۔ جدوں کے بہ قول کم از کم چھ قیدیوں کو گاڑیوں کے ذریعے شہر سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس جیل پر حملے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس حملے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں تاہم اس ضمن میں تفصیلات غیر واضح اور متضاد ہیں۔

ڈیرہ اسمٰعیل خان کا علاقہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے کے سنگم پر واقع ہے۔ اپریل 2012ء میں طالبان نے قریبی علاقے بنوں کی ایک جیل پر اسی طرز کے حملے میں اپنے قریب 400 ساتھیوں کو رہا کرا لیا تھا۔ ان میں سے پولیس کے مطابق کم از کم 20 قیدی ’بہت خطرناک مجرم‘ تھے، جن میں سابق صدر پرویز مشرف پر حملے میں سزا یافتہ مجرم بھی تھا۔