پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے سے مستعفی

'' فخرو بھائی'' سپریم کورٹ اور سینئر رفقاء سے بھی شاکی رہے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چیف الیکشن کمشنر پاکستان فخر الدین جی ابراہیم نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ انہوں نے باضابطہ طور اپنا استعفی بدھ کے روز صدر کو ارسال کر دیا ہے۔ متلون مزاج اور قدرے جذباتی سمجھے جانے والے نرم خو فخر الدین جی ابراہیم کو 23 جولائی 2012 کواس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے نئے سربراہ کے لیے جسٹس [ریٹائرڈ] جاوید اقبال اور جسٹس[ریٹائرڈ] شاکراللہ جان کے نام ابتدائی طور پر اہم بتائے جا رہے ہیں۔ جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کے استعفے کی الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے تصدیق کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ، الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات اور عمران خان کے ناروا تبصروں نے فخر الدین جی ابراہیم کو دکھی کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں بلدیاتی انتخابات کا بوجھ اپنے کندھوں پر لینے سے گریزاں تھے۔ اس لیے انہوں نے پاکستان میں صدارتی انتخاب مکمل ہونے کے اگلے ہی روز اپنا استعفی صدر کو بھیج دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انکا استعفی حتمی ہے۔

چیف الیکشن کمشر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد فخر الدین جی ابراہیم کو سب سے پہلے کراچِی میں نئی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کو متحدہ قومی موومنٹ کے اثرات سے پاک کرنے کا چیلنج درپیش ہوا توان کے مزاج آشناوں نے کہنا شروع کر دیا تھا وہ ان جھمیلوں میں پڑنے کے بجائے استعفی دے کر گھر جا سکتے ہیں۔ لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اپنے منصب پر موجود رہے۔

اگرچہ اس دوران کراچی میں میمن کمیونٹی کے بعض افراد کا بطور خاص ''اتفاقیہ'' قتل ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں نےعدالت اور چیف الیکشن کمیشن کے درمیان نکتہ نظر کے اختلاف کو تنقید کا ذریعہ بنایا، حتی کہ عدالتی فیصلے پرعمل کے بعد بھی انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کا عمل اپوزیشن کا اطیمنان نہ پا سکا۔

ماہ مئی میں انتخابی عمل شروع ہوا تو امیدواروں کی اہلیت اور نا اہلیت کے حوالے سے کسی معیار پر الیکشن کمیشن کا یکسو نہ ہونا اور امیدواروں سے سوال و جواب کی حکمت عملی اچانک تبدیل کرنا بھی بدمزگی کا باعث بنا، جبکہ کراچی میں انتخابی دھاندلیوں کے واقعات اور پیپلز پارٹی کے علاوہ تحریک انصاف کا انتخابی عمل پر انگلیاں اٹھانا چیف الیکشن کمیشن کے لیے دکھ کا باعث بنتا رہا۔

چیف الیکشن کمیشن کی ساکھ پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر تازہ ''حملے'' صدارتی انتخاب کی تاریخ کی تبدیلی کے بعد ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر کے لیے اپنے اس عہدے پر برقرار رہنا زیادہ مشکل محسوس ہونے لگا تھا تاہم صدارتی الیکشن کی تکمیل کے بعد انہوں نے فوری استعفے کا فیصلہ کر لیا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اب تک فخر الدین جی ابراہیم نے بلدیاتی انتخابات سے بہت پہلے ہی استعفے کا فیصلہ تاکہ بلدیاتی الیکشن کے معاملے میں سپریم کورٹ اور صوبائی حکومتوں کے پاٹوں کے درمیان پھنس کر نہ رہ جائیں۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق فخر الدین جی ابراہیم سپریم کورٹ کے حوالے سے بھی بطور چیف الیکشن کمیشن خوشگوار تاثر اور تجربات ساتھ لے کر نہیں جا رہے۔ اسی طرح انہیں الیکشن کمیشن کے ارکان سے بھی گاہے گاہے عدم تعاون کا احسساس ہوا۔ پھر وہ چل دیے۔ اب اس امر کا انحصار صدر پر ہے کہ وہ چیف الیکش کمیشن کا استعفی کب منظور کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں