.

مصری فوج نے جمہوریت بچانے کے لئے مداخلت کی: جان کیری

تعطل کے شکار پاک ۔ امریکا اسٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ مصر میں منتخب صدر کو برطرف کرنے والی فوج نے لاکھوں شہریوں کی اپیل پر جمہوریت بچانے کے لئے مداخلت کی۔ نجی ٹیلی ویژن 'جیو' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ مصری فوج پر لاکھوں عوام نے مداخلت کے لئے دباؤ ڈالا کیونکہ انہیں ملک میں افراتفری اور تشدد کا خوف لاحق تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دانست میں فوج نے ابھی تک اقتدار پر قبضہ نہیں کیا ہے۔ ملکی امور چلانے کے لئے سول حکومت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت وہ [فوج] جمہوریت بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

جیو کے سینئر اینکر پرسن حامد میر نے جب جان کیری کی توجہ مصری فوج کی فائرنگ سے جان بحق ہونے والے سیکڑوں مظاہرین کی جانب دلائی تو اعلی ترین امریکی سفارتکار نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت کی بحالی نہیں۔ ہمیں اس پر بہت زیادہ تشویش ہے۔ میں وہاں تمام متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہوں۔ ہم نے واضح کر دیا ہے کہ یہ بات کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک یورپی یونین اور دوسرے ملکوں کے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے تاکہ مصر کو درپیش مشکلات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ "مصر کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، اس لئے ہمیں انتظار کرنا ہو گا کہ مستقبل میں یہ کیسے پیش رفت کرتی ہے۔"

درایں اثنا جان کیری اور پاکستانی وزیراعظم کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران گزشتہ دو سال سے پاکستان اور امریکا کے معطل اسٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ "وہ واضح پیغام لے کر آئے ہیں کہ امریکا باہمی مفاد اور احترام کی بنیاد پر پاکستانی عوام سے طویل المدتی شراکت داری کے عزم پر قائم ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کہ "یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا ہے اس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔"

جان کیری کا کہنا تھا کہ "امریکا معاشی مسائل اور توانائی کے بحران کے حل کے لیے پاکستانی عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مدد کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔"

ڈرون حملوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جان کیری نے کہا کہ صدر باراک اوباما دہشت گردوں کے خلاف براہِ راست امریکی کارروائی کے حوالے سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کی گئی حالیہ تقریر میں اپنی پالیسی واضح کر چکے ہیں۔ اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے جان کیری نے کہا: ’’ہمیں دہشت گردی کے خلاف سرحدوں سے آزاد عالمی جنگ نہیں بلکہ امریکا کے لیے خطرہ بننے والے شدت پسندوں کے مخصوص گروہوں کو ہدف بناکر ختم کرنے کے لیے مستقل کوششیں کرنا ہوں گی۔‘‘

دوسری جانب ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے پاکستان کا دیرینہ مؤقف دہراتے ہوئے کہا: ’’ہم نے اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایسا کرنا جاری رکھیں گے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں ڈروں حملے غیر ضروری ہیں۔ تو آج کی بات چیت کی روشنی میں ہم یہ بات چیت جاری رکھیں گے کہ امریکا کی اس ڈرون حملوں کی پالیسی کو کیسے روکا جائے۔‘‘

افغانستان میں قیام امن کے بارے میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی سربراہی میں شروع کیے گئے امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان مین قیام امن کی کوششوں کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے طالبان کے ساتھ دوحا میں مذاکرات کے لیے معاونت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ دوحا میں طالبان کے ساتھ مذاکرات سے قطع نظر امریکا کی افغانستان پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاک امریکا اسٹریٹجک ڈائیلاگ

پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے 2006ء میں دورہ پاکستان کے موقع پر اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز ہوا تھا۔ ان مذاکرات کے تحت امریکا نے اقتصادیات، تجارت، توانائی، دفاع، سلامتی، استحکام اور جوہری عدم پھیلاؤ، قانون کے نفاذ، انسداد دہشت گردی، سائنس وٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت، پانی، صحت، مواصلات اور عوامی سفارت کاری کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا چوتھا اور آخری دور 24 اور 25 مارچ 2011ء کو واشنگٹن میں منعقد ہوا تھا۔ اسکے بعد 26 نومبر 2011ء کو پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی فضائی حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی کے سبب یہ مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔

عمران خان ۔ جان کیری ملاقات

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق عمران خان نے ملاقات میں ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا۔

عمران خان کی جان کیری سے ملاقات ایک امریکی سفارتکار کے گھر پر ہوئی۔ نصف گھنٹے کی ملاقات کے بعد عمران خان اپنی پارٹی کے رہنما نعیم الحق کے ساتھ باہر نکلے تو انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔ تاہم بعد میں تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ عمران خان نے اس ملاقات میں ڈرون حملوں کا مسئلہ اٹھایا۔ عمران خان نے کہا کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کیلئے ڈرون حملوں کا جواز پیش کرتے ہیں اس لئے امریکا کو چاہئے کہ ڈرون حملے بند کردے۔

پاک۔ایران گیس پائپ لائن اور امریکی موقف

ادھر پاکستانی قیادت امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پرلچک دکھانے پر قائل نہ کر سکی۔ جان کیری نے کوئی یقین دہانی کرانے سے بھی گریز کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ایک نان پیپر پیش کیا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ امریکا، پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفانہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

ذرائع کے مطابق مشیر خارجہ کا موقف تھا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کا پابند ہے، اگر پاکستان نے دسمبر 2014 تک منصوبہ مکمل نہ کیا اور یکم جنوری 2015سے ایران سے گیس لینا شروع نہیں کی تو معاہدے کی شرائط اس قدر سخت ہیں کہ پاکستان کو 30سے 50 لاکھ ڈالر کا جرمانہ ادا کر نا ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ کو درخواست کی گئی کہ اس معاملے پر صدر اوباما سے بھی بات کریں۔

ذرائع نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کو منصوبے سے متعلق امریکی پالیسی پر نظر ثانی کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی اور کہا کہ پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کر نا چاہیئے۔

جان کیری نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور فوجی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ (نواز) کی حکومت آنے کے بعد کسی اعلٰی امریکی عہدیدار کا کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔