عمران خان کا جواب 'مایوس کن'، 28 اگست کو جواب داخل کرانے کی ہدایت

تحریک انصاف کے رہنما کا وضاحتی بیان ناقابل قبول ہے: چیف جسٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

توہین عدالت کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے انہیں اٹھائیس اگست کو تیسری بار جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ہماری شکایات ریٹرننگ افسران سے متعلق تھیں۔ جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کا 26 جولائی کا بیان عدلیہ کے خلاف نہیں تھا۔ عمران خان عدلیہ کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے 11 مئی کے انتخابات میں دھاندلی پر شدید دباوٴ تھا۔ جواب میں نوٹس واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تیسری بار نیا جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

توہین عدالت کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ کر رہا ہے جو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کےعلاوہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس عظمت سعید شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اب ان سیاستدانوں میں بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں حالیہ برسوں کے دوران توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سپریم کورٹ پہنچے تو عدالت کےباہر ان کی جماعت کے کارکنوں کا ہجوم تھا۔ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں ان کا کہنا تھا ''انہوں نے عدالت کی توہین کی نہ عدالت سے معافی مانگیں گے۔"

جمعہ کے روز پاکستان کی کی سب سے بڑی عدالت میں اس وقت دلچسپ صورتحال تھی عدلیہ بحالی کے لیے 2007 میں چلائی گئی وکلاء تحریک کے ایک رہنما حامد خان ایڈووکیٹ توہین عدالت کے نوٹس کے سلسلے میں وکیل صفائی کے طور پرعدالت میں موجود تھے اور وکلاء تحریک کے دوسرے اہم رہنما منیر اے ملک بطور اٹارنی جنرل عدالتی معاونت کے لیے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ اسی طرح سپریم کورٹ تحریک انصاف کے سبراہ توہین عدالت نوٹس کا جواب ے رہے تھے جبکہ ان کے کارکنوں کا ہجوم ان کی حمائت میں سپریم کورٹ باہر موجود تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں