چلاس میں فائرنگ، پولیس اور فوج کے تین اعلیٰ افسر جاں بحق

حملہ علاقے میں سرگرم طالبان کی ذیلی شاخ 'جنودِ حفصہ' کی کارروائی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں ایک حملے میں دیامیر کے ایس ایس پی ہلال احمد خان، پاکستان فوج کے ایک کرنل اور ایک کیپٹن جان بحق ہو گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ واقعےکی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی دیامر ہلال پر اس وقت قاتلانہ حملہ کیا گیا جب وہ ڈی سی ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے بعد اپنی گاڑی میں واپس آ رہے تھے۔ وہ چلاس میں رونئی کے مقام پر پہنچے تو اچانک نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے ایس ایس پی ہلال احمد اور ان کے ہمراہ گاڑی بیٹھے ہوئے کرنل غلام مصطفیٰ موقع پر ہی جان بحق ہو گئے جبکہ کیپٹن اشفاق عزیز اور ایک دوسرا اہلکار زخمی ہو گئے۔ انھیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں کیپٹن اشفاق عزیز نے بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ فائرنگ سے پولیس اور فوجی افسران کے کچھ محافظ بھی زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ چلاس میں دہشت گردی کی واردات میں مارنے جانے والے کرنل غلام مصطفی سانحہ نانگا پربت کے انکوائری افسر تھے جو دہشتگردوں کے ہاتھوں 9 غیر ملکی سیاحوں اور دو پاکستانیوں کے قتل کی تحقیقات کر رہے تھے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق تمام علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاہم ابھی حملہ آوروں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔ رواں سال 23 جون کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ضلع دیامیر کے صدر مقام چلاس کے قریب بونردیامروی نانگا پربت بیس کیمپ میں پیش آیا۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ اس علاقے میں ان کے ذیلی گروپ 'جنودِ حفصہ' نے کیا ہے جس کا مقصد ڈرون حملوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں