.

کوئٹہ: جنارے میں خودکش بم دھماکا، اعلیٰ پولیس افسروں سمیت 30 افراد جاں بحق

بدترین بم حملے میں ڈی آئی جی، تین ڈی ایس پیز جام شہادت نوش کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مقتول پولیس افسر کے جنازے میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں اکیس پولیس افسروں سمیت تیس افراد جاں بحق اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبے کے انسپکٹر جنرل (آئی جی ) پولیس مشتاق سکھیرا نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ جنازے پر خود کش بمبار نے حملہ کیا ہے۔ انھوں نے اکیس پولیس افسروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ نو دیگر مقتولین کی شناخت کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بم دھماکے میں بیشتر شدید زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ مشتاق سکھیرا نے ایک ڈی ائی جی اور تین ڈی ایس پیز کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بہادر پولیس افسروں نے جانیں قربان کی ہیں لیکن ہم مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیتے رہیں گے۔

اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے پولیس لائنز میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پولیس انسپکٹر محب اللہ کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی۔ اس دوران حملہ آور بمبار نے مسجد کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جنازے میں اعلیٰ پولیس افسروں سمیت بیسیوں اہلکار شریک تھے۔

مسجد میں بم دھماکے کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشنز فیاض سنبل، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہیڈکوارٹرز شمس الدین اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ علی مہر شامل ہیں۔ زخمیوں کو کوئٹہ کے سول اسپتال اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں عید سے صرف ایک روز قبل پولیس افسروں پر یہ دوسرا حملہ کیا گیا ہے۔ جمعرات کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے ایس ایچ او محب اللہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ ان کی نماز جنازہ کے لیے مسجد کے اندر صف بندی کی جارہی تھی کہ اس دوران خودکش حملہ آور نے زوردار دھماکا کردیا۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔کوئٹہ میں پولیس پر یہ بدترین حملہ ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان میں نسل پرستی،علاحدگی پسندی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر ایک عرصے سے قتل وغارت اور دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ اہل تشیع اور خاص طور پر ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بم حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔