پاکستانی تاجر نے مونچھوں کی محبت میں انتہاء پسندوں کو دشمن بنا لیا

گھنی مونچھیں خطے میں مردانگی اور طاقت کی علامت سمجھیں جاتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستانی بزنس مین ملک عامر محمد خان آفریدی اغوا ہو چکے ہیں، قتل کی دھمکیاں ملی ہیں، دھمکیوں کی وجہ سے اپنی فیملی سے دور اکیلے رہنے پر مجبور ہیں اور یہ سب انھیں اپنی شاندار مونچھوں کی کی وجہ سے جھیلنا پڑا-

انتہائی صفائی اور نفاست سے تراشی گئی ان تیس انچ کی مونچھوں کی دیکھ بھال پر آفریدی روزانہ آدھا گھنٹہ صرف کرتے ہیں جس میں وہ ان مونچھوں کو دھوتے ہیں، کنگھی کرتے ہیں، اسے تیل لگاتے ہیں اور انھیں تاؤ دے کردو کمانوں کی شکل دے دیتے ہیں جو کشش ثقل کے اصولوں کے برخلاف ان کے ماتھے جتنی اونچی ہو جاتی ہیں-

شمال مغربی شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے پوتے پوتیوں والے اڑتالیس سالہ آفریدی سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیوں اپنی مونچھوں کے لئے اتنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا 'یہ میری شناخت ہیں، لوگ ان کی وجہ سے مجھے عزت دیتے ہیں- مجھے خوشی ہوتی ہے- جب یہ عام مونچھوں کی طرح تھیں تو کوئی میری طرف نظر بھی نہیں ڈالتا تھا- اب میں لوگوں کی توجہ کا عادی ہو گیا ہوں اور یہ سب مجھے بہت اچھا لگتا ہے'-

صدیوں سے گھنی مونچھیں، برصغیر ہند و پاک میں مردانگی اور طاقت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں- لیکن پاکستان میں اسلامی عسکریت پسند اپنے مذہبی نظریات کا نفاذ چاہتے ہیں جس کے تحت یا تو مونچھیں منڈوانا یا پھر کم از کم چھوٹی رکھنا چاہئے-

لہٰذا آفریدی صاحب ایک مشہور شخصیت سے لشکر اسلام کے افغان بارڈر پر واقع ضلع خیبر میں قیدی بن گئے جو اس وقت طالبان کے حریف تھے اور اب طالبان کے حامی ہیں- پہلے تو گروپ نے ان سے 500 ڈالر ماہانہ بھتہ مانگا اور جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو سنہ 2009 میں چار مسلح افراد انھیں ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئے- ان کا کہنا ہے کہ انھیں ایک مہینے تک ایک غار میں قیدی بنا کر رکھا گیا اور انھیں رہائی یہ یقین دہانی کروانے کے بعد ہی ملی کہ وہ اپنی مونچھیں منڈوا دیں گے- انہوں نے بتایا ‘مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھے مار دیں گے لہٰذا میں نے اپنی مونچھوں کی قربانی دے دی’-

اس کے بعد وہ نسبتاً محفوظ پشاور منتقل ہو گئے- وہاں انہوں نے اپنی مونچھیں دوبارہ بڑھا لیں اور پھر 2012 سے دھمکیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا- مختلف لوگ انھیں فون پر گلہ کاٹنے کی دھمکیاں دینے لگے- لہٰذا انہوں نے طالبان کی زد میں آئے ہوئے شمال مغربی علاقے کو چھوڑ دیا اور پنجاب کے شہر فیصل آباد منتقل ہو گئے اور اب مہینے میں ایک یا دو بار اپنی فیملی سے ملنے چھپتے چھپاتے جاتے ہیں- ان کا کہنا تھا "میں اب بھی خوفزدہ ہوں- گو کہ میں رمضان میں اپنی فیملی کے ساتھ پشاور میں ہوں لیکن میں اپنا زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزارتا ہوں، اگر کوئی مجھ سے ملنے آ جائے تو لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ میں فیصل آباد میں ہوں"-

لیکن رمضان کے مہینے کی اس سہولت کے ساتھ انھیں ان کی مونچھ کی وجہ سے وضو بنانے میں مشکل ہوتی ہے لہٰذا وہ اپنی مونچھوں کو سیدھا رکھتے ہوئے اپنے چہرے پر پھیلاتے ہوئے اپنے کانوں کے پیچھے اڑسا لیتے ہیں-

انھیں اپنی مونچھوں کی دیکھ بھال پر 150 ڈالر ہر مہینے خرچہ کرنا پڑتا ہے جو کہ پاکستانی استاد کی ماہانہ تنخواہ سے بھی زیادہ ہے- انھیں اپنی مونچھوں کے لئے اپنے آبائی ضلع سے 50 ڈالر ماہانہ وظیفہ بھی ملتا ہے-

ان کے آبائی خیبر ایجنسی کے حکّام ایسے کسی بھی شخص کو 10 ڈالر سے 60 ڈالر ماہانہ وظیفہ دیتے ہیں جو کہ گھنی اور نظروں میں کھبنے والی مونچھوں کا مالک ہو- اس وظیفے کے حقدار مقامی قبائلی یا سیکورٹی فورسز کے افراد بھی ہو سکتے ہیں جو کہ چیف ایڈمنسٹریٹر کی صوابدید پر تقسیم کیا جاتا ہے-

آفریدی کے پاس اپنی مونچھوں کے لئے ایک ہیر ڈرائر، صابن کی ٹکیاں، شیمپو، ایک مبینہ جرمنی کا بنا ہوا تیل ہے (جو کہ انہوں نے دبئی سے منگوایا تھا اور جس پر سے انہوں نے لیبل کی چٹ اتار دی ہے تا کہ کوئی اس کے خواص اور اجرائے ترکیبی نہ جان سکے)، ایک آئینہ اور ایک بوتل گھر کا بنا ہوا ناریل کا تیل ہے- اس کے علاوہ ان کے پاس خاص اپنی مونچھوں کے لئے تولیہ اور ہیر برش بھی ہے-

روزانہ اپنی موچھوں پر اپنا خفیہ تیل لگانے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تاؤ دے دے کراپنی مونچھیں سنوارنے سے بعد جب کسی شاپنگ مال میں جاتے ہیں تو فوراً ہی مرکز نگاہ بن جاتے ہیں-

پاکستان کے ایک اخبار "ڈیلی ٹائمز" میں پچھلے سال ایک کالم چھپا تھا جس میں مونچھوں کو طاقت اور اقتدار کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا تاہم حال ہی میں ریکارڈ تیسری بار منتخب ہونے والے نواز شریف ایک کلین شیو چہرے کے مالک ہیں-

انہوں نے تین بار پہلے منتخب جمہوری لیڈروں کے مونچھوں والے فوجی جرینلوں کے ہاتھوں برطرفی کے پیش نظر نو منتخب وزیر اعظم کو مشورہ دیا 'اگر آپ سکون کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے ہیں تو کبھی مونچھوں والے کو آرمی چیف یا چیف جسٹس مقرر نہ کرنا'-

بھارت میں مونچھوں کے حوالے سے کتاب کے مصنف رچرڈ مک کلم کہتے ہیں کہ ہندوستانی پولیس اور ملٹری میں بھی گھنی مونچھیں بہت مقبول ہیں- اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'مونچھوں والے مرد بظاہر زیادہ احترام پاتے ہیں، انھیں زیادہ مردانہ سمجھا جاتا ہے اور انھیں ان کی عمر سے بڑا تسلیم کیا جاتا ہے- آپ میٹرو علاقوں سے دور ہو جائیں تو ہندوستان اب بھی ایک پرانی، روایتی جگہ ہے'-

مرد بہرحال مرد ہیں اور مردوں کو اپنی شان اور اپنی مونچھوں کا دکھاوا پسند ہوتا ہے تاھم اس معاملے میں آفریدی کی بیوی اور اس کے دس بچے اتنے پرجوش نہیں- ان کا کہنا تھا 'کبھی کبھار میرے گھر والے کہتے ہیں کہ مونچھیں کٹوا لوں اور آرام سے ان کے ساتھ رہوں- لیکن میں اپنی فیملی چھوڑ سکتا ہوں، پاکستان چھوڑ سکتا ہوں لیکن اب میں اپنی مونچھیں کبھی نہیں کٹواؤں گا'-

اب ان کا خواب ہے کہ انہیں کہیں سیاسی پناہ مل جائے اور وہ کسی بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کی نمائیندگی کریں، اگر خوش قسمتی سے انھیں مذکورہ ویزا مل گیا- تاہم ابھی ان کی منزل بہت دور ہے- دنیا میں سب سے طویل مونچھ کا ریکارڈ آجکل ایک ہندوستانی کے پاس ہے جو کہ چودہ فٹ طویل ہیں- رام سنگھ چوہان چند بالی ووڈ فلموں میں بھی جلوہ گر ہو چکے ہیں جبکہ 1983 میں انہوں نے جیمز بانڈ کی فلم 'اکٹوپسی' میں بھی ایک چھوٹا سا رول کیا تھا-

آفریدی کا اے ایف پی سے بات چیت کے دوران کہنا تھا 'میں اپنی فیملی کو بیرون ملک منتقل کرنا چاہتا ہوں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ حتیٰ کہ دبئی بھی چلے گا لیکن مجھے سیاسی پناہ چاہئے- میں سگریٹ نہیں پیتا نہ ہی میں کوئی نشہ کرتا ہوں نہ ہی شراب پیتا ہوں- یہ مونچھیں ہی زندگی میں میرا انتخاب ہیں- میں ان مونچھوں کی خاطر بھوکا بھی رہ سکتا ہوں- یہ مونچھیں میری زندگی ہیں'-

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں