کوئٹہ میں عید الفطر کی نماز کے بعد خون کی ہولی

نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم دس افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے قریب جمعہ کے روز نمازِ عید پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم دس افراد جان بحق ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے ایک مسجد میں نماز عید پرافراد کو نشانہ بنایا۔

اس سے ایک روز قبل ایک روز قبل جمعرات کی صبح قتل کئے جانے والے پولیس افسر کی نمازِ جنازہ پر خودکش حملے میں کم ازکم 38 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اعلیٰ پولیس افسران بھی شامل تھے۔

کوئٹہ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کی جب لوگ نمازعید ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر آ رہے تھے۔ مقامی پولیس افسر بشیر احمد بروہی نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد چار تھی اور اس واقعے میں تقریباً دس افراد زخمی ہیں۔ ان کے بقول چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ بقیہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ مسٹر بروہی کے بقول سابق صوبائی وزیر علی مدد جاتک بھی فائرنگ کے وقت مسجد میں موجود تھے۔ شبہ ہے کہ حملہ آور انہی کو نشانہ بنانے آئے ہیں۔ علی مدد جاتک کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

پولیس افسر کے بقول اس بارے میں وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ حملہ آور سیاستدان کو قتل کرنے آئے تھے یا یہ فرقہ ورانہ دہشت گردی کا ایک واقعہ ہے۔ تاہم اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ علی مدد جاتک بالکل خیریت سے ہیں۔

ایک جانب بلوچستان میں علاحدگی پسند کارروائیوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف خصوصاً کوئٹہ گزشتہ کئی مہینوں سے فرقہ ورانہ ہنگامی آرائی کی لپیٹ میں ہے۔ شہر میں اقلیت شیعہ برادری کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

بلوچ علیحدگی پسندوں نے ابھی حال ہی میں بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئٹہ سے پنجاب جانے والی بسوں پر حملے کیے تھے۔ اس دوران تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت 13 مسافروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور متعدد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل، اغواء اور بلوچ علاقوں میں ہونے والے آپریشن کا ردعمل ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے جمعہ کے روز مسجد پر کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ گذشتہ روز کوئٹہ میں ایک پولیس افسر کی نماز جنازہ کے موقع پر ہونے والے خودکش حملے میں 38 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ فیاض سنبل اور ایس پی ہیڈ کوارٹر سمیت زیادہ تر پولیس اہلکار شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں