یمن کے بعد واشنگٹن نے لاہور پاکستان سے پیشتر عملہ واپس بلا لیا

امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر اختیار نہ کریں: دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے پاکستان کے شہر لاہور میں قائم اپنے قونصل خانے سے ہنگامی ضروریات کے لیے تعینات عملے کے علاوہ تمام سفارت کاروں کو نکال لیا ہے۔ یہ اقدام دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق امریکی حکام نے اس اقدام کی وجہ ایک ’مخصوص خطرہ‘ بتائی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو بھی یہ ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کا ’غیر ضروری‘ سفر نہ کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متعدد غیرملکی اور ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان بھر میں امریکی شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔

امریکی سفارت خانے کی ایک ترجمان کے مطابق یہ واضح نہیں کہ قونصل خانہ کب کھلے گا۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ لاہور میں قونصل خانے کے حوالے سے امریکی فیصلے کا قبل ازیں سفارت خانے بند کرنے کے اقدامات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے منگل کو بتایا تھا کہ 19 سفارت خانے ہفتے تک بند رہیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہاں عملے کے کچھ ارکان ہنگامی ضروریات کے لیے تعینات رہیں گے۔

امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے رواں ہفتے یمن سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔ دہشت گرد گروہ القاعدہ کے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی مشنز کی سکیورٹی بھی سخت کی گئی ہے۔

لاہور پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت ہے اور اسے شدت پسندوں کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ وہاں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم بھی اسی شہر میں حملے کا نشانہ بنی تھی جس کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ میچز کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم نواز شریف کی انتخابی فتح کے بعد سے ملک میں پرتشدد کارروائیوں کی لہر میں تیزی آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں