.

پاکستان کا بھارت پر سرحدی علاقے میں بلا اشتعال فائرنگ کا الزام

کنٹرول لائن کے بعد ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے بھارتی فوج پر سرحدی ضلع سیالکوٹ کے نزدیک ورکنگ باؤنڈری پر اتوار کو بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

پاکستان کے ایک سنئیر فوجی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ ''بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز نے پھوکلیان اور ہیڈمرالہ کے علاقے میں پاکستانی رینجرز کی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی ہے جس کے بعد وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ تاہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا''۔

سیالکوٹ ( صوبہ پنجاب) اور مقبوضہ جموں کے درمیان واقع ورکنگ باؤنڈری پر حالیہ دنوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔اس سے قبل آزاد اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے درمیان واقع حد متارکہ جنگ (لائن آف کنٹرول) پر دونوں فوجوں کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے کے دوران جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ گذشتہ سوموار کو کنٹرول لائن پر ایک حملے میں پانچ بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد بھارتی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جمعرات کو کنٹرول لائن پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی اور بھارت نے پاکستان آرمی پر اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا الزام عاید کیا تھا۔ فوجیوں کی ہلاکت پر بھارت میں حکمراں جماعت کانگریس اور حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی صفوں میں اشتعال انگیزی پائی جارہی ہے اور دونوں جماعتوں کی قیادت پاکستان کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کررہی ہے۔

حالانکہ کنٹرول لائن پر فائرنگ کی ابتدا بھارتی فوج کی جانب سے ہی ہوئی تھی۔ گذشتہ جمعرات کو کنٹرول لائن پر تتہ پانی کے علاقے میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا۔

دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور انھوں نے سرحد کے آرپار حالیہ حملوں کے بعد دونوں ممالک میں جنگ بندی کے دس سالہ معاہدے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔