.

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی کنٹرول لائن پر خلاف ورزیوں پر دفتر خارجہ طلبی

راولا کوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے اسلام آباد میں متعین بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے ان سے لائن آف کنٹرول کے پار سے بھارتی سکیورٹی فورسز کی آزاد کشمیر میں بلااشتعال گولہ باری پر شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ دنوں میں کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈپٹی ہائی کمشنر سے راولا کوٹ میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے بے گناہ انسانی جان کے ضیاع پر احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی فوج نے بھارتی فورسز پر سوموار کو علی الصباح لائن آف کنٹرول سے راولا کوٹ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے۔فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا ہے۔

پاک آرمی کے ایک عہدے دار کے مطابق بھارتی فوج نے حد متارکہ جنگ پر تین علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ کی ہے اور پاکستانی فوجیوں نے ان کا مسکت جواب دیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی فوج نے پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ترجمان راجیش کالیا نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہماری جانب سے ہلکے ہتھیاروں سے پاکستان کی بلااشتعال فائرنگ کا جواب دیا گیا ہے اور رات سے سوموار کی صبح تک وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ہے''۔

بھارتی فوج کے بیان کے مطابق اتوار کی صبح کنٹرول لائن پر کانا چک کے علاقے میں پاکستان کی جانب سے آنے والی گولی سے ایک پیراملٹری سرحدی محافظ زخمی ہوگیا۔

بھارتی فوج نے راولا کوٹ کے علاقے میں ایک گاؤں ڈونگا گمبھیر پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں چھے مویشی ہلاک ہوگئے اور متعدد مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس گاؤں کے ایک مکین طاہر مجید کا کہنا ہے کہ آدھی رات کے وقت فائرنگ شروع ہوئی تھی۔وہ اس سے بچنے کے لیے اپنے مکان کے نزدیک واقع ایک بنکر میں چھپ گئے تھے اور صبح فائرنگ رکنے تک وہیں رہے تھے۔

درایں اثناء پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید کی قیادت میں دارالحکومت مظفرآباد میں اقوام متحدہ کے مبصرمشن کے دفتر کی جانب قریباً چارسو کشمیریوں نے احتجاجی مارچ کیا ہے۔وزیراعظم نے مظاہرین سے خطاب کرتے کہا کہ کشمیر میں امن کا قیام اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی ذمے داری ہے اور وہ وادی میں قیام امن کے لیے اپنی اس ذمے داری کو پورا کرے اور بھارت کی جانب سے گولہ باری کو روکے۔

پاکستان نے گذشتہ روز بھارتی فوج پرسرحدی ضلع سیالکوٹ کےنزدیک ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عاید کیا تھا۔سیالکوٹ (صوبہ پنجاب) اور مقبوضہ جموں کے درمیان واقع ورکنگ باؤنڈری پر حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

آزاد اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے درمیان واقع حد متارکہ جنگ (لائن آف کنٹرول) پر دونوں فوجوں کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے جھڑپیں جاری ہیں۔گذشتہ سوموار کو کنٹرول لائن پر ایک حملے میں پانچ بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔اس واقعے کے بعد بھارتی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جمعرات کو کنٹرول لائن پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی اور پاکستان آرمی پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا الزام عاید کیا تھا۔

فوجیوں کی ہلاکت پر بھارت میں حکمراں جماعت کانگریس اور حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی صفوں میں اشتعال انگیزی پائی جارہی ہے اور دونوں جماعتوں کی قیادت پاکستان کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کررہی ہے۔بی جے پی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ پر وزیراعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے۔