.

پاکستان: بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا فوری امکان رد

پہلے بہت سے اہم معاملات کو معمول پر لانا ضروری ہے، اسحاق ڈار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے دوٹوک انداز میں بھارت سے تجارت کے فروغ اور بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے کسی فوری امکان کو رد کر دیا ہے ۔ یہ واضح اعلان ایک ایسی حکومت کی طرف سے سامنے آیا ہے جو تجارت و معیشت کے حوالے سے زیادہ حساس سمجھی جاتی ہے۔

نیز وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھارت کے بارے میں ان کے سابقہ دور سے ہی نرم گوشہ رکھنے والا لیڈر مانا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ میاں نواز شریف نے تقریبا تیرہ برس بعد دوبارہ بر سر اقتدار آنے پر بھی بھارت کے بارے میں بالعموم مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن ان کے انتہائی معتمد وفاقی وزیر خزانہ نے دو ٹوک انداز میں ایک سوال کے جواب میں کہہ دیا ہے کہ فوری طور پر بھارت کو تجارتی حوالے سے '' انتہائی پسندیدہ ملک '' قرار دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ اظہار اس سوال پر کیا تھا کہ بھارت آئے روز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے کیا اس کے باوجود اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جائے گا ؟

وزیر خزانہ نے نہ صرف اس سوال کا جواب نفی میں دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ '' پہلے بہت سارے امور معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔'' پاکستان کے وزیر خزانہ نے اس موقع پر کھلے لفظوں میں'' کور ایشو'' کشمیر کا نام تو نہیں لیا لیکن ایک کشمیری وزیر اعظم کے وزیر خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود بھی کشمیری النسل ہونے کے حوالے سے وہ پاکستانیوں کے اس بارے میں عمومی جذبات کو خوب سمجھتے ہیں۔

سابقہ حکومت نے اس وقت کے وفاقی وزیر تجارت اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم کے ذریعے غیر معمولی پیش رفت کرلی تھی، تاہم اسی وقت سے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے کی نہیں ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی تازہ خلاف ورزیوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام شہریوں کے زخمی اور جاں بحق ہونے کے واقعات کے دنوں میں حکومت پاکستان کا یہ کھلا موقف پاکستان کے زیر کشمیر میں بھی اچھا تاثر قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔