.

گولہ باری سے کشمیری شہری جاں بحق، مکان تباہ

اہل خانہ زخمی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی، احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوں جوں ماہ ستمبر میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی نیو یارک میں ہونے والی امکانی ملاقات قریب آ رہی ہے، متنازعہ ریاست جموں کشمیر کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں تیز رفتاری آ رہی ہے ۔ تازہ خلاف ورزیوں کی زد میں مدار پور سیکٹر ضلع پونحھ کا رہائشی محمد زبیرجا ں بحق جبکہ اس کی ہمشیرہ اور بچے زخمی ہو گئے ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے اس محمد زبیر کا گھراورآس پاس کےبعض مکانا ت بھی بھارتی گولہ باری کی زد میں آکر تباہ اور ناقابل رہائش ہو گئےہیں ۔ محض ایک روز قبل سیالکوٹ ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی بھارت پر لگا تھا۔

ان پے درپے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور بیگناہ سویلین کے متاثر ہونے پر پیر کے روز پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ایک احتجاجی مظاہرے میں وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے بھی شرکت کی ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے ریاستی سطح پر احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے بھارت کے نئے ہائی کمشنر ڈاکٹر رگھون نے اپنی سفارتی دستاویزات ابھی با ضابطہ طور پر پاکستان کے صدر کو پیش نہیں کی ہیں اس لیے انہیں دفتر خارجہ نہیں بلایا گیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریبا ساڑھے بارہ بجے جب لائن آف کنٹرول کے قریبی گاوں ڈونگہ گھمیر کا رہائشی محمد زبیر اور اس کے اہل خانہ اپنے گھر میں سو رہے تھے تو اچانک لائن آف کنٹرول کے پار سے گولہ باری شروع ہو گئی۔ جس کی زد میں آ کر محمد زبیر جاں بحق اور اس کے گھر والے زخمی ہو گئے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں کی یہ لہر رواں سال کے آغاز میں شروع ہوئی۔ دونوں اطراف نے ایک دوسرے پر فوجیوں کے گلے کاٹنے کا الزام عائد کیا تھا۔ آخری بڑا واقعہ بھارت کے پانچ فوجیوں کی مبینہ ہلاکت کا پیش آیا جس سے عملا بھارت کے وزیر دفاع نے پاکستان کو'' کلین چٹ'' دے دی تھی۔

جبکہ آخری واقعہ اس تازہ واقعے سے صرف ایک روز قبل سیالکوٹ سے متصل ورکنگ باونڈری پر پیش آیا۔ اس کا الزام بھی بھارت پر لگا تاہم بھارت نے جوابی الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ بعد ازاں دونوں طرف سے فائرنگ کا سلسلہ جا رہا۔

اتوار اور پیر کی رات لائن آف کنٹرول پر بھارتی گولہ باری کا واقعہ اس حوالے اہم ہے کہ اس میں نہ صرف ایک سویلین لقمہ اجل بنا ہے بلکہ عام لوگوں کے گھر بھی اس گولہ باری سے گر گئے ہیں۔ اسی وجہ سے مظفرآباد میں مظاہرین نے اقوام متحدہ کے مبصرین تک بھی احتجاجی مراسلے پہنچائے ہیں۔

پاک بھارت تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین ان واقعات کو ستمبر کی اہم ملاقات لیے اچھا شگون قرار نہیں دیتے ہیں۔