.

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ڈرون حملوں کی مخالفت کر دی

ڈرون حملے عالمی قانون کے تحت ہونے چاہئیں:بین کی مون کی اسلام آباد میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے پاکستان کے دورے کے موقع پر امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے ڈرون حملے بین الاقوامی قانون کے تابع ہونے چاہئیں۔

بین کی مون نے اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے زیراہتمام منگل کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ہونا چاہیے''۔

انھوں نے کہا:''میں اکثر کہتا رہا ہوں ،مسلح ڈرونز کا استعمال کسی بھی دوسرے ہتھیار کی طرح عالمی انسانی حقوق سمیت عالمی قانون کے تحت ہونا چاہیے۔اقوام متحدہ کا یہ بالکل واضح موقف ہے۔غلطیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ہرممکن کوشش کی جانی چاہیے''۔

بین کی مون نے ایک جانب تو امریکا کے ڈرون پروگرام پر تنقید کی اور دوسری جانب انھوں نے اپنے پاکستانی سامعین کو یہ بھی باور کرایا کہ کسی بھی خطے میں دیرپا استحکام کے لیے سکیورٹی اور ترقی ناگزیر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''بجٹ کی ترجیحات سے عوام کی ترجیحات کی عکاسی ہونی چاہیے۔تعلیم ،توانائی ،لوگوں کو بااختیار بنانے ،اچھی ملازمتوں ،انسانی حقوق اور انسانی وقار پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے''۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سکیورٹی کے قلیل مدت بحرانوں پر قابو پانے کے لیے پائیدار ترقی کے ذریعے امن کی طویل المیعاد بنیادیں رکھنی چاہئیں۔

انھوں نے اس سےپہلے نسٹ میں مرکز برائے بین الاقوامی امن کا افتتاح کیا۔انھوں نے عالمی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔اس موقع پر پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز موجود تھے۔واضح رہے کہ پاکستان کی فورسز کے آٹھ ہزار اہلکار اور افسر دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تحت امن دستوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی سی آئی اے نے سن 2004ء میں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے وزیرستان پر ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا اور پہلے ڈرون حملے میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کم سے کم چار سو ڈرون حملے کیے ہیں۔

سی آئی اے نے زیادہ تر ڈرون حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے ہیں اور ان میں ساڑھے تین سے چار ہزار کے درمیان افراد مارے گئے ہیں۔امریکی حکام کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ میزائل حملوں میں القاعدہ کے کمانڈر یا طالبان جنگجو اور ان کے حامی مارے گئے یا مارے جارہے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آ رہی ہیں اور انھوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے کئی مرتبہ سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں۔ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں میں طالبان یا القاعدہ کے دوسرے درجے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے حالانکہ ان سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

پاکستان سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں پر امریکا سے بیسیوں مرتبہ احتجاج کرچکا ہے اور انھیں غیر قانونی اور اپنی علاقائی خود مختاری کے خلاف قراردیتا ہے لیکن پاکستان کی سول حکومتوں کے اس احتجاج کو محض دکھاوا قرار دیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قباَئلی علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں عام شہری ،بچے ،بوڑھے ،خواتین اور نوجوان نشانہ بن رہے ہیں اور طالبان جنگجوٶں کے شُبے میں علاقے میں موجود عام لوگوں کو بلا امتیاز مارا جا رہا ہے۔پاکستان کی دینی وسیاسی جماعتیں بھی ان حملوں کی شدید مخالفت کرتی رہی ہیں۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپریل 2013ء میں پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی حکومت نے امریکا کو ملک میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملوں کی اجازت دی تھی اور اس ضمن میں ان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا۔تاہم انھوں نے اپنے دور اقتدار میں اس معاہدے کا کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔البتہ وہ امریکا سے ڈالرز لینے میں پیش پیش رہے تھے۔

سابق فوجی صدر نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ڈرون حملوں کی چند ایک مواقع کے لیے مشروط اجازت دی گئی تھی۔اس کی ایک شرط یہ تھی ڈرون حملہ اس وقت کیا جائے گا جب ہدف بالکل الگ تھلگ ہوگا اور اس سے کوئی اور نقصان نہیں ہوگا۔ اس کو انھوں نے''کولیٹرل'' نقصان کا نام دیا تھا۔