.

بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری

منگل کی صبح سیالکوٹ کے چاروا سیکٹر پر بھی گولہ باری شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھانے میں جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزیاں اہم سبب بن گئی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر تازہ جھڑپوں کے بعد جموں اور سیالکوٹ سے متصل ورکنگ باونڈری کے نام سے معروف باضابطہ بین الاقوامی سرحد پر بھی تین روز سے گولہ باری جاری ہے ۔ منگل کو علی الصباح ورکنگ باونڈری کے چاروا سیکٹر میں بھی سرحد کے آر پار یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز لائن آف کنٹرول کے مدار پور اور بٹل سیکٹر سے ملحقہ علاقے میں گھروں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والےعام شہری محمد زبیر، اس کی ہمشیرہ اور بچوں کے زخمی ہونے سے بڑھنے والے غم وغصہ میں جہاں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے،وہیں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان سرحدوں پر جھڑپوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے علاوہ ورکنگ باونڈری پرگولہ باری کا تبادلہ بھی منگل کو اس وقت تیسرے رروز میں داخل ہو گیا جب صبح چار بجے کے قریب مبینہ طور پر بھارتی فوج نے سیالکوٹ کے قریب چاروا سیکٹر پربھی اچانک جنگ بندی کی خلاف ورزی شروع کر دی ۔ جس کا جواب پاک فوج نے بھی دیا ۔ صبح سویرے شروع ہونے والی اس جھڑپ کے نتیجے کسی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

ورکنگ باونڈری پر وقفے وقفے سے جاری گولہ باری اور فائرنگ کے باعث پاکستان کے دو اہم سرحدی شہروں نارووال اور شکرگڑھ کے درمیان پیر کے روز نقل و حرکت بھی متاثر رہی۔

ادھر کنٹرول لائن پر بھی گولہ باری فائرنگ کے واقعات معمول بن رہے ہیں، جس سے پاکستان کے زیر انتظام سرحدی علاقوں کے مکین سخت متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کے پار سے مبینہ طور پر شروع کی گئی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستان کے لیے بھارت کے نامزد ہائی کمشنر نے اس اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔