.

"دہشت گردی کے خلاف جنگ متحد ہو کر ہی جیتی جا سکتی ہے"

تقریر میں بھارت کے ساتھ کشیدگی پر جنرل کیانی نے بات نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر دو رائے تو ہوسکتی ہیں لیکن اس کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں۔

گریژن سٹی ابیٹ آباد کی کاکول ملٹری اکیڈیمی میں یومِ پاکستان کی سالانہ فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ "آج ہمیں کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندروانی محاذ پر درپیش مسائل ہماری خاص توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ ملکی سالمیت اور ہر پاکستانی کے جان و مال کے لیے خطرہ ہے"۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اکیڈیمی کے گراٶنڈ میں منگل کو رات گئے منعقد ہونے والی اس پروقار تقریب کو پاکستان ٹیلی ویژن سمیت متعدد نجی ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ پریڈ کے دوران مسلسل بارش ہوتی رہی اور اس میں فوج کے بینڈ کے علاوہ زیر تربیت خواتین کیڈٹس نے بھی شرکت کی۔

جنرل کیانی نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کر یں اور یکسو ہو کر جلد عمل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب ہم سب مل کر ایک حکمت عملی پر متفق ہوں تا کہ نہ تو ہمارے ذہنوں میں ابہام رہے اور نہ دہشت گردوں کے". انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور دیگر مسائل پاکستان کی سالمیت اور پاکستانیوں کی جان و مال کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں، ان سے سب کو مل کر نمٹنا ہوگا۔

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا جبکہ ملک کے تمام مسائل کا حل اتحاد اور اتفاق میں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نہ بحیثیت قوم نہ کبھی ناکام تھے اور نہ ہوں گے۔‘ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل کیانی نے اپنی تقریر کے دوران ہندوستان سے کشیدگی سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔

درایں اثناء وزیرِ داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے دہشت گردی کیخلاف بھرپور جنگ کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو اسے ادھوری نہیں چھوڑیں گے اور ہم دل و جاں سے جنگ کریں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اسی ماہ منعقد ہو گی۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ نئی سکیورٹی پالیسی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پالیسی کا ایک حصہ اندرونی معاملات اور ایک بیرونی اسٹریٹجک پر مشتمل ہو گا، نئی سیکورٹی پالیسی کا ابتدائی خاکہ دو ہفتوں میں وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔