پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والا مسلح شخص گرفتار

اسلام آباد کی شاہراہ پر چند گھنٹے جاری رہنے والا ڈراما اختتام کو پہنچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے مسلح شخص کو پولیس اور سکیورٹی حکام نے زندہ گرفتار کر لیا ہے اوراس کے پکڑے جانے کے ساتھ ہی دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں چند گھنٹے تک جاری رہنے والا ڈراما اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

یہ مسلح شخص اب پولیس کے زیرحراست ہے اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس کو زندہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی گرفتاری میں سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے راول پنڈی سے تعلق رکھنے والے رہ نما زمرد خان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے خود کو خطرے میں ڈالتے ہوئے اس شخص کو دبوچ لیا اور اس کے ہاتھ سے کلاشنکوف ہٹانے کی کوشش کی ۔اس دوران پولیس اہلکاروں نے اس کو گرفتار کر لیا۔

خودکار شاٹ مشین گن اور کلاشنکوف سے مسلح یہ شخص جمعرات کی شام پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں پہنچ گیا تھا اوراس نے ایوان صدر کی جانب جانے والی شاہراہ پر کھڑے ہوکر ہوائی فائرنگ شروع کردی۔اس نے سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے قریب آنے سے منع کیا اور انھیں اپنے اس مطالبے سے آگاہ کیا کہ وہ ملک مِیں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتاہے۔

اس دوران جناح ایونیو اور شاہراہ دستور پر عام لوگوں ،صحافیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا مجمع اکٹھا ہوگیا۔سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس اس شخص کے ساتھ اس کی مبینہ بیوی اور دو بچے بھی تھے۔فوری طورپر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ اپنی سیاہ رنگ کی کرولا کار میں اسلام آباد کی شاہراہوں اور چوکوں پر لگے بہت سے پولیس ناکوں کو عبور کرکے کیسے کلاشنکوف اور سب مشین گن سمیت انتہائی حساس علاقے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کہنے کی حد تک سکیورٹی انتہائی سخت ہے لیکن یہ اتنی سخت ہے ایک کلاشنکوف بردار کارسوار اس علاقے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جہاں پارلیمینٹ ہاؤس ،ایوان صدر ،ایوان وزیراعظم اور عدالت عظمیٰ واقع ہیں۔

اس شخص نے ایوان صدر کی جانب جانے والی شاہراہ پر لگے ستون پر کھڑے ہوکر ہوائی فائرنگ کردی اور کہا کہ ''میں عریانی اور فحاشی کے خلاف ہوں۔میرے ساتھیوں نے پورے ملک میں پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں''۔

یہ مسلح شخص اپنے مطالبے میں واقعی سنجیدہ تھا یا وہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہے،یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتا چل سکے گا لیکن اس کی سامنے آنے والی گفتگو اور حرکات سے لگتا ہے کہ اس کا دماغی توازن درست نہیں تھا۔بہر کیف جو کچھ بھی ہے،وہ چار پانچ گھنٹے تک اسلام آباد کی تمام سکیورٹی فورسز کو الجھائے رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

فوری طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اس کی اس مہم جوئی کا پنہاں مقصد کیا تھا؟ آیا وہ کسی مذہبی رہ نما کی تقاریر سن کر متاثر ہوا یا اس نے از خود ہی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ داغ دیا اور بالآخر پکڑا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں