.

عیسائی لڑکی پر توہین مذہب کا الزام لگانے والا امام مسجد باعزت بری

توہین قرآن کے الزامات کو ہائی کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت نے توہینِ مذہب اور شواہد میں رد و بدل سے متعلق مقدمے میں مقامی امام مسجد کو الزامات سے بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد کی نواحی بستی کی مسجد کے امام خالد جدون پر خود اُس ہی مسجد کے مؤذن نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنھوں نے قرآنی نسخوں کی توہین اور مقامی رہائشی رمشا مسیح کے خلاف شواہد میں رد و بدل کیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج راجہ جواد عباس نے مقدمے کی سماعت نمٹاتے ہوئے خالد جدون کے خلاف ناکافی شواہد کی بنا پر ملزم کو باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

امام مسجد کے وکیل واجد علی گیلانی نے عدالتی حکم کی تفصیلات میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ توہینِ مذہب کے اس مقدمے کے اندراج سے قبل تمام قوائد و ضوابط پورے نہیں کیے گئے تھے۔

’’ہماری دوسری دلیل یہ تھی کہ تمام شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جا چکے تھے لیکن ایسے کوئی شواہد نہیں تھے جو اس شخص (خالد جدون) کو الزامات سے منسلک کریں۔‘‘

وکیل دفاع نے بتایا کہ خالد جدون نے حلفیہ کہا کہ وہ بے گناہ ہے اور اُس کو پولیس نے مبینہ طور پر حکومتی دباؤ کی وجہ سے اس مقدمے میں ملوث کیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ سال نومبر میں کم سن عیسائی لڑکی کے خلاف توہین قرآن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُس کے خلاف دائر مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایک سال قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ہونے والے اس واقعہ پر مشتعل افراد نے وہاں پر موجود عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کے متعدد مکانات کو نقصان پہنچایا تھا۔ جس کے بعد وہاں پر مقیم عیسائی برادری محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی تھی۔
اس وقت حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد اس گاؤں سے چھ سو افراد نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کی طرف چلے گئے تھے۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ توہین مذہب کے قانون کی شق 295 بی کے تحت درج کیا گیا تھا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس کی سزا عمر قید ہے۔

پاکستان میں ناقدین توہین مذہب سے متعلق قوانین پر روز اول سے تحفظات اور ان کی منسوخی یا پھر ان میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ معاشرے کے بااثر افراد خاص طور پر بنیاد پرست مسلمان اس قانون کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جب کہ بعض اوقات مشتعل افراد عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی حملہ کر کے ملزمان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔