.

پاکستان: وسطی پنجاب میں خونریز فرقہ وارانہ تصادم، 12 ہلاک، 6 زخمی

تشدد پر قابو پانے کے لئے ضلع میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں رونما ہونے والی فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ ان جھڑپوں میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ڈی سی او بھکر کے مطابق احتجاج اور ہنگاموں کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر میں صبح دس بجے سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر کے تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز بھی بند ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ گذشتہ روز اس وقت شروع ہوا، جب مرکزی پنجاب میں بھکر کے علاقے کوٹلہ جام میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ یہ ریلی سُنی بنیاد پرست گروپ ’اہلسنت والجماعت‘ کے زیر اہتمام نکالی گئی تھی۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق چند روز پہلے اسی علاقے میں سپاہ صحابہ کا تحصیل صدر مارا گیا تھا۔ اس تنظیم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کے کارکن کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا ہے اور جمعہ ہی کے روز اسی کارکن کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔

تشدد کے واقعات پر کنٹرول کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے ضلع بھکر میں ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق کشیدگی کے بعد دونوں مذہبی گروپوں کی جانب سے متعدد مساجد میں اشتعال انگیز بیانات دیے گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے قریبی شہروں سے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

حالیہ چند برسوں میں ملک کے دیگر حصوں کے برعکس صوبہ پنجاب میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ پولیس افسر سرفراز فلکی کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب مظاہرین شیعہ اکثریتی علاقے میں پہنچے۔ فریقین کے کم از کم دس کارکن مارے گئے ہیں اور صورت حال کشیدہ ہے۔ ہم مزید پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘

درایں اثنا اسی طرح ایک پرتشدد واقعہ دارالحکومت اسلام آباد کے مضافات میں پیش آیا ہے، جہاں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک مدرسے کے مہتمم سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق مدرسے کے مہتمم قاری محمد عارف اور دیگر افراد نماز کی ادائی کے بعد باہر کھڑے تھے کہ موٹر سائکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایک نمازی اور ایک اسی مدرسے کا طالب علم شامل ہیں۔ ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی حملہ آوروں کے مقصد کے بارے میں معلوم ہو سکا ہے۔