.

اسلام آباد طالبان سے مذاکرات میں مدد فراہم کرے: حامد کرزئی کا مطالبہ

افغان صدر نے پاکستان میں اپنا قیام مزید ایک دن بڑھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کی مدد کرے گا۔

پیر کی دوپہر اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ ان کے وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف سے جامع مذاکرات ہوئے ہیں، جن کے ایجنڈا پر انتہاپسندی کا مسئلہ سرِ فرست تھا۔

انھوں نے کہا کہ انتہا پسند ہمارے مشترکہ دشمن ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں میں وزیراعظم ہاؤس میں ون ٹو ون ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطہ کی ابھرتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے تمام امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بات چیت کے بعد افغان صدر نے پاکستان پر زور دیا کہ دونوں ممالک دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کریں کیونکہ اس کے بغیر دونوں ملکوں میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کی عوام اور فورسز پر حملے کر رہے ہیں اور اس مسئلہ پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن قائم کرنے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کئی منصوبوں کو مکمل کرنے پر متفق ہوگئے ہیں جن میں دریائے کنہڑ پر دونوں ممالک پاور پلانٹ لگائیں گے۔ نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان، افغانستان میں امن واستحکام کیلئے عالمی برادری کی کوششوں کی مکمل حمایت کرے گا۔

اس سے قبل کرزئی اپنے ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں پر وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے ان کا استقبال کیا۔ ان کے جہاز کو چکلالہ ائیر بیس پر اتارا گیا اور حامد کرزئی کو اکیس توپوں کی سیلامی دی گئی۔ اور روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے۔

خیال رہے کہ اگلے سال افغانستان میں موجود تقریبا 87 ہزار نیٹو فوجی ملک چھوڑ دیں گے جس کے بعد وہاں پر امن قائم کرنا افغان حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔

حامد کرزئی اپنے تازہ اور غالباً بطور صدر آخری دورہ پاکستان سے بہت کچھ حاصل کرنے کی امید اور چند مطالبات کے ساتھ اسلام آباد آئے ہیں۔

بعض مبصرین کے مطابق زیادہ خطرے کی بات تعلقات کی کشیدگی دونوں ممالک کے سرکاری اداروں سے بڑھ کر اب اس کا عوامی سطح پر پھیلنا ہے جبکہ حکام اور ذرائع ابلاغ زیادہ گرم جوشی پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر حامد کرزئی نے پاکستان کا آخری دورہ تقریباً ڈیرھ سال قبل کیا تھا۔

صدر کرزئی تقریباً 19 مرتبہ پاکستان آ چکے ہیں لیکن گیارہ مئی کے عام انتخبات میں پاکستان ملسم لیگ نون کی واضح اکثریت سے کامیابی اور میاں محمد نواز شریف کے وزیراعظم بنے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ حامد کرزئی پاکستان آئے ہیں۔

درایں اثناء افغان صدر حامد کرزئی نے صدر آصف زرداری سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاک افغان تعلقات سمیت خطے کی صورتحال اور طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل کا موضوع زیر بحث آیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن و سلامتی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ صدر زرداری کے بقول پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے سرتاج عزیز کے گزشتہ دنوں دورۂ کابل سے برف پگھلنے کے عمل کا آغاز شروع ہوا تھا۔

لیکن دورے کے فوراً بعد افغان اہلکاروں نے کہا تھا کہ صدر کرزئی محض دورہ کرنے کے اس وقت تک خواہاں نہیں ہیں جب تک اس دورے سے افغانستان میں امن کی کوششوں میں کسی پیش رفت کی امید نہ ہو۔