سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا

اٹارنی جنرل نے عدالت میں عمران خان کے حق میں بیان کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو سننے کے بعد نوٹس خارج کیا۔ اٹارنی جنرل نےعدالت میں بیان دیا کہ اعلیٰ عدالتوں پر خواہ کوئی بھی الزام عائد کرے، عوام اس پر یقین نہیں کرینگے،عدالت کی عظمت اور وقار عوام کی نظر میں ہے اور رہے گا۔

توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد آزاد عدلیہ کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ اگر ہم انصاف سپریم کورٹ سے نہ مانگیں تو کس سے مانگیں؟۔ عدالت انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات نہیں کرے گی تو ہم کس کے پاس جائیں؟. عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔ ہمارا مقصد عدلیہ کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ میں نے صرف ریٹرننگ افسران کے بارے میں الفاظ استعمال کئے تھے۔ انہوں نے عدالت کے روبرو ان کے حق میں بیان دینے پر اٹارنی جنرل کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا قد کاٹھ دیکھیں ! جاہل آدمی بات کرتا تو کوئی اور بات تھی۔ عمران خان نے تو اپنے جواب میں شرمناک کا لفظ استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا۔ کیا عمران خان کے کارکن انھیں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا رویہ شرمناک ہے۔ توہین عدالت کیس میں عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے ''شرمناک'' لفظ گالی نہیں ہے۔

عمران خان کا شرمناک کہنے سے مراد ''نامناسب'' ہے۔ شرمناک لفظ کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے۔ جس پر جسٹس اعجاز چودھری کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ شرمناک لفظ کے معنی بدل دیں۔ آپ کہتے ہیں شرمناک کہنے سے عدالت کی توہین نہیں ہوتی تو ہمیں مطمئین کر دیں۔ اگر ہم فیصلہ دیں کہ شرمناک کا لفظ غیر مناسب نہیں تو یہ ایک مثال بن جائے گی۔ جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ ذاتی جھگڑا ہو تو معاف کر دوں لیکن یہ ادارے کا معاملہ ہے۔ جواب میں ایک جگہ بھی نہیں لکھا کہ شرمناک غلط لفظ ہے۔ عمران خان عدالت کو شرمناک کہیں تو یہ قابل قبول نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کے داخل کرائے گئے جواب پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ معافی تب مانی جاتی ہے جب کوئی غلط کام کیا جائے۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ حالیہ الیکشن میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ سے کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے۔

واضع رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کر وا دیا تھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کا 21 صفحات پر مشتمل جواب ان کے وکیل حامد خان نے جمع کرایا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے الیکشن کمشن اور ریٹرننگ افسروں کی کارکردگی پر تنقید کی تھی۔

ریٹرننگ افسران کے کام پر تبصرہ کرنے سے توہین عدالت لاگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے ''شرمناک'' کا لفظ پوری عدلیہ کیلئے نہیں بلکہ ریٹرننگ افسروں کے لئے استعمال کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو کبھی سکینڈلائز کرنے یا کسی جج کی تضحیک یا توہین کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے عدالت سے 26 جولائی کو جاری کیا گیا توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے کی استدعا کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں