ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لیے کونسل آف یورپ ٹریٹی پر دستخط کی منظوری

پاکستان کنونشن کی توثیق کے بعد امریکی حکومت سے ڈاکٹر صدیقی کی واپسی کی درخواست کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے امریکا میں قید ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے کونسل آف یورپ ٹریٹی (کنونشن) پر دستخط کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہوا۔ کابینہ نے سزا یافتہ افراد کی منتقلی کے بارے میں کونسل آف یورپ کنونشن پر دستخط کی منظوری دی ہے جس کے تحت اس معاہدے کے رکن ممالک سزایافتہ قیدیوں کو ان کے آبائی ممالک کو منتقل کرسکتے ہیں۔

اس کنونشن کی توثیق کے بعد حکومت پاکستان امریکی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی درخواست کرے گی۔ ڈاکٹر عافیہ اس وقت امریکی جیل میں القاعدہ سے تعلق اور دہشت گردی کے مختلف الزامات میں چھیاسی سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

وزیراعظم نے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو ہدایت کی ہے کہ اس کنونشن پر دستخط کے عمل کو تیز کیا جائے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی میں وقتاً فوقتاً ایسی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں کہ امریکی عدالتوں سے سزا پانے والے پاکستانی شہری کسی دوطرفہ معاہدے کی عدم موجودگی کے سبب وطن واپس نہیں لائے جا سکے ہیں۔

امریکا کونسل آف یورپ ٹریٹی کی توثیق کرچکا ہے جبکہ پاکستان نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے۔ پاکستان اس معاہدے پر دستخط کردیتا ہے تو پھر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوجائے گی اور امریکا کے پاس انھیں اپنے ہاں جیل میں پابند سلاسل رکھنے کا کوئی قانونی بہانہ نہیں رہے گا.

واضح رہے کہ امریکی حکام نے ماضی میں پاکستانی حکام کو باور کرایا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سزایافتہ مجرموں کو ان کے آبائی ملکوں کو واپسی سے متعلق اس کنونشن پر دستخط کی صورت میں ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے بات چیت کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکا کے مشہور علمی ادارے میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی گریجوایٹ ہیں اور وہ نیوروسائنسدان ہیں۔ انھیں 2008ء میں خودکش بمبار ہونے اور امریکی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات رکھنے کے الزام میں افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر دھماکا خیز مواد رکھنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔ بعد میں ان پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے افغانستان میں ایک حراستی مرکز میں امریکی تفتیش کاروں پر دوران تفتیش بندوق سے فائرنگ کی کوشش کی تھی۔

انھیں افغان دارالحکومت کابل کے نزدیک واقع بگرام کے ہوائی اڈے پر قائم امریکی عقوبت خانے میں چند ماہ تک قید رکھنے کے بعد امریکا منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے خلاف امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور انھیں جیوری ٹرائل میں سات مختلف الزامات کے تحت چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم ابھی تک یہ بات سربستہ راز ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے جنگ زدہ افغانستان کیسے پہنچ گئی تھیں کیونکہ ان کے خاندان کا اصرار رہا ہے کہ وہ گھر سے کراچی کے ہوائی اڈے کے لیے گئی تھیں اور انھیں راستے میں ہی بچوں سمیت اغوا کر لیا گیا اور پھر کچھ ماہ بعد ان کی افغانستان موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔

پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکی فوجیوں کے مظالم اور انھیں انصاف کے نام پر چھیاسی سال قید سنائے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور وہ ان کی رہائی کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہیں۔اس خاتون کی پاکستان واپسی کے لیے اندرون اور بیرون ملک بیسیوں مرتبہ احتجاجی مظاہرے کیے جاچکے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی حکام نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے دورمیں پاکستانی حکام کو باور کرایا تھا کونسل آف یورپ ٹریٹی سے ہی ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کی راہ ہموار ہوگی لیکن اس گذشتہ حکومت نے اس جانب کوئِی سنجیدہ پیش رفت نہیں کی تھی۔اب پاکستان مسلم لیگ کی موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ کے بعد ہی مذکورہ کنونشن پر دستخط کی منظوری دے دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں