اسامہ کی مخبری کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم قرار

جج نے اختیارات سے تجاوز کیا، ملزم کے دوبارہ ٹرائل کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کے ایک اعلیٰ عدالتی عہدے دار نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنائی گئی 33 برس قید کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔

کمشنر فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) صاحبزادہ انیس احمد نے جمعرات کو اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے جج (پولیٹیکل ایجنٹ) نے گذشتہ سال فیصلہ سناتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا۔ انھوں نے مقدمے کی ازسرنو سماعت کا حکم دیا ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ناصر خان نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو غیر ملکی ایجنسی کے لیے جاسوسی اور بغاوت کے جرم میں تینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اب ایف سی آر کمشنر نے ان کے خلاف دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا ہے اور مقدمے کی سماعت کے لیے خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کو سیشن جج مقرر کیا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کمشنر پشاور نے کیس کو دوبارہ پولیٹیکل ایجنٹ کو واپس بھیج دیا ہے''۔ اب ان کے موکل مقدمے کی سماعت تک زیر حراست ہی رہیں گے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت پشاور جیل میں قید ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے اسامہ بن لادن کی مخبری کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر کو لمبی قید سنائے جانے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کی تین کروڑ تیس لاکھ ڈالرز کی امداد روک لی تھی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے القاعدہ کے مقتول سربراہ کا سراغ لگانے کے لیے پاکستان کے شمال مغربی شہر ایبٹ آباد میں جعلی ویکسی نیشن مہم چلائی تھی اور ان کی نشان دہی پر ہی امریکا کی خصوصی فورسز نے مئی 2011ء میں اہدافی کارروائی کی تھی جس میں اسامہ مارے گئے تھے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے محفوظ ٹھکانے (اب تباہ شدہ کمپاؤنڈ) میں ان کی موجودگی کی تصدیق کے لیے سی آئی اے کے ویکسی نیشن پروگرام پرعمل درآمد کیا تھا اور اسامہ کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے تھے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اس ڈاکٹر کو بعد میں گرفتارکرلیا تھا اور اس پر غداری اور بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔

سی آئی اے کی پاکستان میں اس جعلی ویکسی نیشن مہم کی وجہ سے پولیو کے قطرے پلانے والے محکمہ صحت کے کارکنان اور دوسرے عملے کے لیے جان کے خطرات پیدا ہوچکے ہیں اور اب تک پولیو ٹیموں پر صوبہ خیبر پختونخوا میں خاص طور پر متعدد قاتلانہ حملے کیے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں