پاکستان: شمالی وزیرستان امریکی جاسوس طیارے کا حملہ

سرکاری حکام نے حملے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے زیر انتظام شمال مغربی قبائلی علاقے میں امریکی ڈرون حملے سے کم از کم چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی سیکورٹی عہدے داروں کے مطابق، یہ حملہ طالبان اور القاعدہ کا گڑھ خیال کیے جانے والے شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ سے پینتیس کلومیٹر دور حیسو خیل گاؤں میں ہوا۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ میزائل حملے میں کم از کم چار افراد کی ہلاکت کے علاوہ ایک کمپاؤنڈ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک سکیورٹی اہلکار نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

شمالی وزیرستان کو طالبان اور القاعدہ سے وابستہ شدت پسندوں کا گڑھ خیال کیا جاتا ہے۔ امریکی ڈرون حملے پاکستان میں انتہائی غیر مقبول ہیں تاہم واشنگٹن حکومت انہیں قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف ایک کارگر ہتھیار قرار دیتی ہے۔

پاکستان کی حکومت ان حملوں کو اپنی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے بار ہا ان کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔ رواں ماہ پاکستان کے دورے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ شدت پسندی کا خطرہ کم ہو رہا ہے اور پاکستان میں ڈرون حملے ’بہت جلد‘ ختم ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے ایک ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں جان کیری کا کہنا تھا: ’’میرے خیال میں یہ پروگرام ختم ہو جائے گا کیونکہ ہم خطرے کا بڑا حصہ ختم کر چکے ہیں اور مسلسل ختم بھی کر رہے ہیں۔‘‘

قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما نے 23 مئی کو ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ افغانستان سے آئندہ برس کے اختتام تک امریکی فوجیوں کے انخلاء کے تناظر میں ڈرون حملوں کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

تاہم انہوں نے ڈرون حملے مکمل طور پر ختم کرنے کی بات نہیں کی تھی اور ڈرون پروگرام کو مؤثر قرار دیا تھا۔ نیو امریکا فاؤنڈیشن کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس کے دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں کمی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں