.

پاکستان کا مزید سات طالب اسیران رہا کرنے کا فیصلہ

رہائی کا فیصلہ مفاہمت کے فروغ کے لئے کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے اسلام آباد نے پاکستان میں قید سات افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا ہے۔ کیا اس قدم سے ان ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدہ تعلقات میں بہتری ممکن ہو سکے گی، اس سوال کا جواب ابھی حل طلب ہی ہے۔

افغانستان اور امریکا کا اصرار تھا کہ پاکستان میں قید افغان طالبان کو کابل حکومت کے حوالے کیا جائے لیکن ہفتے کے دن ان طالبان باغیوں کو پاکستانی جیلوں سے رہا تو کر دیا گیا تاہم انہیں براہ راست کابل حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ہفتے کے دن رہا کیے گئے ان افغان طالبان میں ایک اعلیٰ کمانڈر منصور داد اللہ بھی شامل ہے۔ داد اللہ افغان صوبے ہلمند میں نیٹو اور افغان فوجی اہداف پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ خیال کیا جاتا ہے۔ اسے فروری 2008ء میں صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے ان افغان طالبان کو براہ راست کابل حکومت کے حوالے نہ کیے جانے کی وجہ سے افغان حکام کی ناراضی کا امکان بہر حال موجود ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ان قیدیوں کو پاکستان کے اندر ہی آزاد کر دیا گیا۔ اس بیان کے مطابق، ’’افغانستان میں قومی مصالحت کی کوششوں میں تعاون کے سلسلے میں پاکستان نے سات افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا ہے۔‘‘
پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ان باغیوں کو افغان حکام کے حوالے کیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا، ’’انہیں صرف آزاد کیا گیا ہے۔‘‘ رہا کیے جانے والے ان طالبان میں منصور داد اللہ کے علاوہ سعد ولی، عبدالمنان، کریم آغا، شیر افضل، گل محمد اور محمد زئی بھی شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے گزشتہ برس بھی 26 افغان طالبان کو رہا کیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے طالبان باغیوں کے اس نئے گروپ کی رہائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ماہ ہی افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے دورہء پاکستان کے دوران زور دیا تھا کہ اسلام آباد حکومت کابل اور طالبان کے مابین امن مذاکرات میں تعاون فراہم کرے۔ یہ امر اہم ہے کہ افغان طالبان حامد کرزئی کی انتظامیہ کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے ان سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار اس حوالے سے بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ آیا پاکستانی حکام طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

ادھر افغان وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ان قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس اہلکار نے مزید کہا کہ امن کی طرف یہ ایک چھوٹا اقدام ہے، ’’ہم مستقبل میں حکومت پاکستان سے اضافی اور با معنی اقدامات کی توقع کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام چاہیں تو وہ آسانی سے بڑے فیصلے کر سکتے ہیں، جیسا کہ ملا بردار اور دیگر ایسے طالبان رہنماؤں کی رہائی، جو پاکستانی جیلوں میں ہیں۔‘‘

افغان صدر حامد کرزئی سمجھتے ہیں کہ ملا برادر افغان امن مکالمت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے طالبان کے مختلف گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ کئی برسوں سے ملا برادر کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 2010ء میں پاکستان سے گرفتار کیے جانے والے ملا عبدالغنی برادر نہ صرف افغانستان میں طالبان کی ایک اہم کمانڈر تھے بلکہ وہ ملا محمد عمر کے بھی قریبی دوست بھی تھے۔

ماضی میں کابل حکومت پاکستان پر ایسے الزامات بھی عائد کر چکی ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام اور بغاوت کی وجہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان باغیوں کو خفیہ پناہ دینا ہے۔ نوے کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کے عروج کے پیچھے پاکستان کا کردار انتہائی اہم خیال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 2001ء میں افغانستان پر امریکی اتحادی حملے کے بعد طالبان کی قیادت پاکستان منتقل ہو گئی تھی۔ اسی لیے واشنگٹن اور کابل دونوں کا ہی خیال ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات اور قیام امن کے لیے اسلام آباد حکومت ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام ایسے الزامات مسترد کرتے ہیں کہ وہ طالبان باغیوں کے ساتھ روابط میں ہیں۔