.

پاکستان کے بارہویں صدر ممنون حسین آج حلف اٹھائیں گے

انہیں گورنر سندھ کے منصب سے جنرل مشرف نے 1999 میں ہٹایا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے بارہویں صدر ممنون حسین آج حلف اٹھا رہے ہیں ۔ وہ تیس جولائی کو بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔ نئے صدر سے حلف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری لیں گے۔ جو اس مقصد کے لیے آج طویل عرصے کے بعد ایوان صدر آئیں گے۔

نو منتخب صدر ممنون حسین صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے مسلسل تیرے صدر ہیں۔ اس س پہلے ان کے پیشرو آصف علی زرداری اور ان سے پہلے فوجی صدر پرو یز مشرف دونوں کا تعلق صوبہ سندھ سے تھا۔

ممنون حسین اس سے قبل 1999 میں سندھ کے گور نر رہ چکے ہیں، لیکن جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر فوجی طاقت سے قبضہ کیا تو ممنون حسین نے "بغاوت " کر دی اور اگلے ہی روز نئے فوجی حکمران کے خلاف آخبارات کو بطور گورنر بیان جاری کرتے ہوئے منتخب حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا۔

جنرل مشرف نے انہیں گورنر شپ سے ہٹا دیا اور ممنون حسین کراچی کی سڑکوں پر جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے لگے۔ ایسے ہی ایک موقع کی ان کی تصویر پاکستانی میڈیا نے بہت نمایاں شائع ہوئی ، جس میں چند دن پہلے گورنر ہاوس میں براجمان رہنے والا شخص ایک فٹ پاتھ پر بیٹھا فوجی جنتا کے خلاف احتجاج کرتا دکھایا گیا تھا۔

کہا جاتا ہےممنون حسین کی جمہوریت اور منتخب لیڈر کے ساتھ اسی وفا شعاری کے باعث وزیر اعظم نواز شریف ان کے ممنون چلے آ رہے تھے۔ اس لیے سب سے پہلے 2007 میں لندن قیام کے دوران میاں نواز شریف نے دوبارہ حکومت ملنے کی صورت میں ممنون حسین کو صدر بنانے کا عندیہ دیا، جبکہ تقریبا ڈیڑھ برس قبل اس عزم کا اعادہ کیا اگر ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بنا تو ممنون حسین صدر ہوں گے۔

ممنون حسین سے آج پاکستان کے ایوان صدر میں چیف جسٹس حلف لے رہیں ہوں گے تو انہیں گورنر شپ سے ہٹانے والے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز ایوان صدر سے کچھ ہی فاصلے پر اپنے گھر میں نظر بندی کاٹ رہے ہوں گے۔

دوسری جانب سب پر بھاری کی شہرت کے حامل آصف علی زرداری ایوان صدر چھوڑ کر گئے ہیں تو ان کی جگہ پر ایک ایسا ممنون حسین منصب صدارت پر فائز ہو رہا ہے، جس پر کرپشن کے کسی الزام کا بوجھ ہے، نہ اغواء ، کا نہ قتل میں ملوث ہونے کا۔

ممنون حسین نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی تو شہر کراچی میں ہی جوتوں کی ایک دکان کھول لی، بعد ازاں کپڑے کی دکان چلاتے رہے۔ انہیں اس میں کوئی عار نہ محسوس ہوئی۔ اسی وجہ سے ان پرکرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ مگر سیدھے سادے تاجر اور سیدھے سادے سیاستدان رہے ہیں۔ وہ بیک وقت دینی اور دنیوی تعلیم سے بہرہ مند پہلے پاکستانی صدر ہوں گے۔

آج وہ پاکستان کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہو رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں ایوان صدر کی غلام گردشوں میں سابقہ ادوار سے کتنی مختلف تاریخ لکھی جاتی ہے، یہ آنے والا مورخ ہی بتائے گا۔