.

پاکستان کے طاقتور ترین سویلین صدر اپنے عہدے سے سبکدوش

آصف علی زردای کا دور اقتدار دو انتہاؤں کی آماجگاہ بنا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی تاریخ کے طاقتور ترین سویلین صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور صدارت کے بعد، وہ اپنی پارٹی کی قیادت کے امور پر توجہ دیں گے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے خواہش مند نہیں اور یہ کہ ان کے نزدیک پارٹی چلانا وزیر اعظم بننے سے زیادہ اہم ہے۔

آصف علی زرداری اتوار کے روز ریکارڈ پانچ سالہ مدت گزارنے کے بعد جمہوری انداز میں اپنے عہدے سے سبکدوش رخصت ہو گئے۔ مسٹر زرداری کو ایوان صدر سے روانگی کے وقت الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وہ تقریب میں شرکت کیلئے روایتی بگھی میں پہنچے اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر فوج کے دستے نے انہیں سلامی بھی پیش کی۔ گارڈ آف آنر کے بعد انہوں نے ایوان صدر کے عملے اور افسران سے الوداعی مصافحہ کیا۔ صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی آج اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ الوداعی گارڈ آف آنر کے بعد سابق صدر لاہور کے لیے روانہ ہو جائیں گے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول ہاؤس میں ان کا استقبال کریں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ زرداری کا ذاتی سامان اور اشیاء پہلے ہی کراچی بھجوائی جا چکی ہیں۔

صدارتی عہدے رکھنے کے باوجود اپنی پارٹی کی سربراہی کرنے، ایوان صدر کو سیاسی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے اور ملک کو درپیش اہم مسائل سے صرف نظر کرنے کے حوالے سے انہیں تنقید کا سامنا رہا۔

تاہم دوسری جانب ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بقاء اور استحکام کے لئے ان کے اٹھائے گئے اقدامات اور ایک منتخب جمہوری حکومت سے دوسرے منتخب جمہوری حکومت کو پرامن، جمہوری اور آئینی طریقے سے تبدیلی اقتدار سے انہوں نے تاریخ رقم کی۔

اپنی مدت صدارت کے دوران زرداری نے اپنی پارٹی، پی پی پی کے چیئرمین ہونے کی حثیت سے بھی طاقت کا مظاہرہ کیا تاہم اس حوالے سے ممنون حسین کا معاملہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ زرداری کی طرح ان کا اپنا کوئی پاور بیس نہیں لہٰذ امکان یہی ہے کہ ایک بار پھر صدر کا عہدہ ایک رسمی سربراہ مملکت ہی ہو کر رہ جائے گا۔

آصف زرداری کے پرستار اور ان کے حامی ان کے دور میں کی گئی اہم معاملات کی قانون سازی میں ان کے کردار کو سراہتے ہیں، جن میں گھریلو تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے خواتین کے حق میں کی گئی قانون سازی قابل ذکر ہے۔

وہ آئین میں کی گئی اٹھارویں ترمیم کا بھی حوالہ دیتے ہیں جہاں زرداری نے رضاکارانہ طور پر اپنے وسیع اختیارات کو پارلیمنٹ کو منتقل کر کے جمہوریت کو مستحکم کیا۔

صدارتی مدت کے خاتمے کے بعد زرداری کے ملک سے باہر جانے کی خبروں کو ان کے معاونین بے بنیاد قرار دیتے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ وہ پاکستان ہی میں قیام کریں گے اور اپنی پارٹی کی تنظیم نو کریں گے جسے گیارہ مئی کے الیکشن میں بھاری شکست کا سامنا ہوا تھا۔

پارٹی مقبولیت کے گراف میں کمی کے حوالے سے بہت سے لوگ ان پر اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں تاہم ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ انہیں بحران در بحران کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں ان حالات میں ان کا سروایو کر جانا اپنا آپ میں ایک کارنامہ ہے۔

سن 1987ء میں بینظیر بھٹو سے ان کی شادی کے بعد زرداری کو شہرت ملی۔ 1993ء سے 1996ء کے دوران، بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں وہ بینظیر حکومت کی کابینہ کا حصہ رہے۔ 1996ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد، کرپشن کے الزامات میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اپنی قید کے دوران، 1990ء میں قومی اسمبلی اور 1997ء میں سینیٹ کا رکن منتخب ہونے کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

سن 2004ء میں انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا جس کے بعد انہوں نے دبئی جا کر خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی تاہم 2007 میں ملٹری رولر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے نفاذ اور بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد وہ وطن لوٹ آئے۔

این آر او کے نفاذ کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، عوامی دفاتر کے حاملین کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنا اور سیاسی انتقام اور سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی بری روایات کا خاتمہ تھا۔ زرداری این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک تھے۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے 2008ء کے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کو کامیابی دلائی۔ انہوں نے اس اتحاد کی بھی قیادت کی جس نے جنرل (ر) مسرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور 6 ستمبر 2008ء کو وہ صدر منتخب ہوئے۔