.

شام میں مجوزہ محدود امریکی آپریشن اور کراچی آپریشن، مستقبل مخدوش

مقدمہ قتل کے ملزم کی گرفتاری پر متحدہ نے تین شہر مفلوج کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کے روز فوج کے سربراہ جنرل کیانی کو اگرچہ ایک مرتبہ پھر ہدایت دی ہے کہ'' قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے''۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف آپریشن اپنے آغاز کے ساتھ ہی کم از کم کراچی کی حد متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔

اس کا کھلا اظہار متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی ندیم ہاشمی کی پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد متحدہ کے سخت ردعمل سے ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ کراچی میں رینجرز کی قیادت میں اور شام میں امریکا کی زیر قیادت آپریشن کا انجام ایک جیسا ہو گا۔

مقدمہ قتل میں متحدہ کے رہنما کی گرفتاری پر بدھ کے نہ صرف پورے شہر کراچی کو مفلوج کر دیا گیا بلکہ کراچی کی طرح پاکستانی صوبہ سندھ کے دورسرے بڑے شہر حیدر آباد اور میر پور خاص میں بھی جلاو گھیراو کا ماحول رہا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف کراچی میں کاروبار بند کیے جانے سے تقریبا ایک دن میں اڑھائی ارب روپے کا نقصان ہوا ، جبکہ ہزاروں فیکٹری مزدوروں اور پتھارے داروں کے گھروں میں چولہا جلنے کے لوازمات کی فراہمی بھی مشکل ہو گئی۔

ندیم ہاشمی کی گرفتاری پر لندن میں مقیم دوہرے شہری اور متحدہ کے قائد الطاف حسین نے بظاہر بے ضرر سا بیان دیا کہ انہوں نے ''ذمہ داروں کو فیصلے کا اختیار دے دیا ہے '' لیکن اس بیان کے بعد سندھ کے تین شہروں میں سامنے آنے والا آتشیں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔

کراچی میں آپریشن کے حکومتی منصوبے کی حمایت کرنے والی متحدہ کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے اس کے رہنماوں نے وزیر داخلہ کے ساتھ فون پر بات کر کے بھی ندیم ہاشمی کی گرفتاری پر احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کراچی کی اس سب سے موثر جماعت کی طرف سے آپریشن کو 1992 کے آپریشن سے ملایا گیا ہے، جس کے بعد اس کئی رہنماوں کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔

کراچی کی الجھی ہوئی سیاسیت اور گلی گلی پھیلی عسکریت پر نظر رکھنے والوں کے مطابق بدھ کے روز متحدہ کے ''احتجاج'' کے بعد یہ مشکل ہوگا کہ کسی اور جماعت کے لوگ گرفتار ہوں اور وہ اسی طرز کا احتجاج نہ کرے۔ اس صورتحال میں کراچی آپریشن کے ایک سمٹا سکڑا اور انتہائی محدود آپریشن بن کر عملا بے نتیجہ ہونے کا خطرہ ہے۔


اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ آپریشن بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف امریکی محدود آپریشن کی طرح مذاق بننے کی طرف لڑھک سکتا ہے ۔