.

مذاکرات امریکہ کی ضرورت ہیں، پاکستان کی نہیں

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے لئے محفوظ راستہ درکار ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ انتہا پسندوں اور مزاحمت کاروں کو باتوں میں لگا دیا جائے۔ امریکہ نے براہ راست بھی مذاکرات کا ڈول ڈال دیا ہے اور پاکستان کو بھی اس ڈپلومیسی میں بھدے طریقے سے جھونک دیا گیا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران اور قومی سیاستدان ظاہر یہ کر رہے ہیں کہ وہ طالبان کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھاکر ملک و قوم پر بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔حقیقت میں ان کاا حسان امریکہ اور نیٹو پر ہے جن کے اشاروں پر اے پی سی کا سوانگ رچایا گیا ہے اور آگے چل کر مذاکراتی ٹیموں کی آنیا ں جانیاں دیکھنے کے لائق ہوں گی اور قوم کو مزید بدھو بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ہر شخص کا سوال ہے کہ مذاکرات کس سے، سینکڑوں طالبان گروپوں کی موجودگی میں پاکستان کو امن کی ضمانت کون مہیا کر سکتا ہے، پھر بھی مذکرات کی تسبیح پھیرنے میں ہر کوئی پیش پیش نظر آئے گا۔

سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد بھی پاکستان کو جہادی تنظیموں سے مذاکرات میں الجھادیا گیا گیا تھا۔ کبھی اعلان اسلام آباد ہوا اور کبھی کعبہ میں بیٹھ کر صلح نامے لکھے گئے مگر وقت آنے پر انہیں طاق نسیاں کی نذر کر دیا گیا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت بھی میاں نواز شریف کو استعمال کیا گیا اور آج بھی انہیں آگے کر دیا گیا ہے۔ میاں صاحب نے سی ون تھرٹی میں بیٹھ کر اس تیزی سے کابل کا رخ کیا کہ اس میں سوار میڈیا ٹیم نے واپسی پر خبر دی کہ کابل میںاس جہاز پر میزائل داغے گئے۔ اسلام ا ٓباد کے معاہدے کے وقت تو میاں صاحب کا چہرہ تمتما رہا تھا جیسے انہوںنے کوئی پہاڑ سر کر لیا ہو۔مگر ہوا کیا، آنے والے کئی برسوں میں جہادی گروپ ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور افغانستان کی دھرتی خون میں ڈوبی رہی۔ پاکستان کے مصائب بھی وہی رہے، لاکھوں افغان مہاجرین نے واپس جانے کا نام نہ لیا اور بچا کھچا خطر ناک اسلحہ پاکستان کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ہیروئن کی لعنت بھی پاکستان پر مسلط ہو گئی اور مذہبی، لسانی، نسلی بنیادوں پر پاکستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔ جہادی عناصر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آباد ہو گئے، انہوں نے یہاں شادیاں کیں، کاروبار چمکایا، پاکستان کا شناختی کارڈ اور سبز پاسپورٹ حاصل کیا اور جب وقت آیا تو پھر جہاد کا علم بلند کر دیا۔

امریکہ تب بھی پاکستان کو یکہ و تنہا چھوڑ گیا تھا اور اندیشہ یہ ہے کہ اب بھی وہی پرانا مکروہ کھیل کھیلا جائے گا۔ہمیں بیوقوف بننے کا شوق ہے اور امریکہ ہمیں بیوقوف بنا رہا ہے، اس نے خود تو چلے جانا ہے اور ہمیں جہادی گروپوں کے رحم وکرم پر چھوڑ جانا ہے۔اگلے برس کے بعد امریکہ کو نہ طالبان سے کوئی غرض ہو گی، نہ القاعدہ سے اس کا کوئی جھگڑا ہو گا، جو بھی افتاد آنی ہے، اس کا سامنا پاکستان کو کرنا ہے۔ مذاکرات سے نہ پہلے کوئی آسانیاں پیدا ہوئیں اور نہ آئندہ ایسی کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں ان کے وزیر داخلہ جنرل نصیرللہ بابر نے اپنے بچوں کے طور پر طالبان کو کابل میں حاوی ہونے کا موقع فراہم کیا۔اس دور میں افغانستان میں امن تو قائم ہو گیا لیکن اسلام کی ایک ایسی تشریح سامنے آئی جس پر عالم اسلام کا کوئی بھی عقل و فہم کا مالک صاد کرنے کو تیار نہ تھا۔نائن الیون کی وجہ سے امریکہ کو افغانستان پر جارحیت کا بہانہ مل گیا۔ امریکی صدر نے رعونت سے کہا کہ جو ہمارے ساتھ نہیں، وہ ہمارے دشمنوں کی صف میں ہے، آج کے وزیر داخلہ کے لئے یہ کہنا آسان ہے کہ ایک فوجی آمر نے فاٹا میں فوج بھیج کر پاکستان کے خرمن امن کو خاکستر کردیا لیکن اب موجودہ حکومت جس امن کی بھیک مانگ رہی ہے، وہ ایک سراب سے کم نہیں اور مذاکرات کی بتی کے پیچھے امریکہ بہادر ہی نے لگایا ہے۔اگر آج کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ میں کوئی دم خم ہے تو وہ امریکی آلہ کار بننے سے انکار کر کے دکھائیں۔اور طالبان کو کھلا چھوڑی، پھر دیکھتے ہیں، امریکہ یہاں سے کیسے بچ کرنکلتا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ افغانستان میں بھارت بہت زیا دہ دخیل ہو چکا ہے. بظاہر وہ ترقی و تعمیر کے ٹھیکوں پر کام کر رہا ہے لیکن اس کی آڑ میں اس نے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپ کھول رکھے ہیں جو خاص طور پر بلوچستان میں خونریزی پر مامور ہیں اور عام طور پر پورے پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو پیغام دے دیا ہے کہ بھارت اب وہیں رہے گا مگر پاکستان ترلے منتوں پر اتر آیاہے کہ بھلے بھارت وہاں ٹھیکوں پر کام جاری رکھے مگر دہشت گردی کے کیمپ تو بند کر دے۔ اب یہ ہمت نواز شریف کی ہے کہ وہ ستمبر میں من موہن سنگھ سے پہلی ملاقات میں انہیں اس کے لئے راضی کرسکتے ہیں یا نہیں۔ یہاں مجھے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی یاد آتے ہیں جنہوںنے اسی من موہن سنگھ سے شرم الشیخ کی پہلی ملاقات میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر کھل کر احتجاج کیا تھا اور ان کا یہ احتجاج مشترکہ اعلان کا حصہ بھی بنا۔ میاںنواز شریف زیادہ بہادر نہ بنیں ، گیلانی جیسی جرات رندانہ کا مظاہرہ تو کریں۔

یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے پنجاب یونیورسٹی کی ایک تقریب میں شرکت کی ہے جس میں وائس چانسلر ڈاکٹرمجاہد کامران کی اس کتاب کی رونمائی عمل میں آئی ہے جس میں نائن الیون کی سازش کا بھونڈا پھوڑا گیا ہے۔ صاحب کتاب نے تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے اور مقررین نے بھی ان کو کھل کر داد دی ہے مگر میں ڈاکٹر اجمل نیازی کو داد دیتا ہوں جنہوں نے یاد دلایا کہ ۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ اجمل نیازی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ نائن الیون نے ہم سے قائد اعظم کے یوم وفات کا غم و اندوہ بھی چھین لیا۔ ہم امریکہ کو روتے ہیں اور قائد کا ذکر خال خال کرتے ہیں اور حسن نثارنے تو میرے دل کی بات کہہ دی کہ شام غریباں برپا کرنے کا کیا فائدہ۔ وہ زمانہ یاد کرو جب ہم بھی اسی پوزیشن میں تھے جس میں آج امریکہ اور مغرب ہے، اس وقت دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساﺅںمیں اور کبھی بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے ڈاکٹر مجاہد کامران کی کتاب بہر حال آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، مسلمانوں کے پاس طاقت تھی تو وہ میدان میں دشمن کا مقابلہ کرتے تھے اور نائن الیون جیسے حوادث کی آڑ نہیں لیتے تھے۔ وہ عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہیں بنتے تھے۔

میاں نواز شریف کی زبان پر خودداری کا لفظ بار بارآتا ہے۔ وہ کشکول توڑنے کی بات کرتے نہیں تھکتے۔ مگر نہ کسی خودواری کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے اور نہ کشکول توڑا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے ڈھیر ہو جانے والی حکومت عالمی شطرنج کی بساط پر کیا چالیں چلے گی۔ امریکہ کو بحفاظت فرار کا راستہ دینے کے لئے اے پی سی کا سوانگ رچانے والے قومی سیاستدان، مذاکرات سے پاکستان کے لئے کیا رعائت حاصل کر پائیں گے، ایں خیال است و محال است وجنوں است!

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.