گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اپنے عہدے سے مستعفی؟

ایوان صدر اسلام آباد کو استعفیٰ کا فیکس موصول' ایم کیو ایم تصدیق سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے صوبہ سندھ میں طویل عرصے تک مختلف الخیال وفاقی حکومتوں کی نمائندگی کرنے والے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے استعفٰی دے دیا، ایوان صدر کو ان کا استعفٰی مل گیا ہے۔

اسلام آباد کے ذرائع کے مطابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔انہوں نے دبئی سے استعفیٰ ایوان صدر کو فیکس کیا جو ایوان صدر کو موصول ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد گزشتہ رات طبی معائنہ کیلئے تین دن کی رخصت پر دبئی گئے ہیں۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان اس سے قبل بھی دبئی جا کر اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔

گورنر سندھ کی روانگی کے بعد سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج دررانی قائم مقام گورنر سندھ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ "ایم کیو ایم" نے ان کے مستعفی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں لیاری گینگ وار کے ملزمان کے خلاف مقدمات واپس لینے کی خبروں کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پارٹی نے موقف اختیار کیا تھا کہ گورنر بھی اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے۔

تاہم بعد ازاں پارٹی قائد الطاف حسین کی تجویز پر انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔

حالیہ پیشرفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے جبکہ ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ندیم ہاشمی کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دو پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ستائیس دسمبر دو ہزار دو کو گورنر سندھ کاعہدہ سنبھالا تھا۔ ڈاکٹر عشرت کو طویل ترین عرصے تک گورنر رہنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ کم عمر ترین گورنرز میں بھی وہ پہلے نمبر پر ہیں۔

گورنر سندھ نے ساڑے پانچ سال سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں اور ساڑے چار سال سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں گزارے ہیں۔

یاد رہے کہ 1992 میں نواز شریف کی حکومت کے دوران کراچی میں ہونے والے آپریشن کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے تھے اور طویل عرصے تک برطانیہ میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار رکھی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں