.

لاہور میں پانچ سالہ بچی سے زیادتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

متعدد مشتبہ افراد گرفتار، پولیس نے ملزم کی کلوز سرکٹ ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ایک پانچ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کے خلاف انسانی حقوق کے کارکنان نے مظاہرہ کیا ہے جبکہ پولیس نے مشتبہ ملزم کی کلوز سرکٹ کیمرے کی ویڈیو جاری کردی ہے۔

زیادتی کے بعد پانچ سالہ بچی کی حالت تشویش ناک ہوگئی تھی لیکن اب اس کی حالت قدرے بہتر بتائی گئی ہے۔ پولیس ابھی تک اس واقعے کے مشتبہ ملزم کے بارے میں ناکام رہی ہے۔ پولیس نے پچیس تیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے لیکن ان میں سے بیشتر کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

لاہور کے ایک کم آمدنی والے علاقے سے جمعرات کو اس پانچ سالہ بچی کو اغوا کر لیا گیا تھا اور سفاک ملزم نے اس کو عصمت دری کے بعد ایک اسپتال کے باہر جمعہ کی رات آٹھ بجے کے قریب چھوڑ دیا تھا۔

لاہور کے سروسز اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرزند علی نے بتایا ہے کہ ''بچی کی حالت اب قدرے بہتر ہے لیکن وہ بدستور انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں موجود ہے''۔

سنئیر پولیس افسر ذوالفقار حمید نے بتایا ہے کہ تفتیش کاروں نے متعدد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی ہے لیکن ابھی تک کسی کو باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور جماعتوں کے کارکنان نے ہفتے اور اتوار کو پاکستان کے مختلف شہروں میں اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس اخلاق سوز واقعہ کے خلاف مہم جاری ہے اور نجی ٹی وی چینلز کم سن بچی سے زیادتی کے واقعہ پر رپورٹس نشر کررہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بچی سے متعدد مرتبہ زیادتی کی گئی تھی۔

درایں اثناء پولیس نے لاہور کے گنگا رام اسپتال کے باہر اس بچی کو چھوڑ کر جانے والے مشتبہ شخص کی کلوز سرکٹ کیمرے کی ویڈیو جاری کی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی شناخت میں پولیس کی مدد کریں اور ازخود قانون کو ہاتھ میں نہ لیں

متاثرہ بچی کے اہل محلہ نے ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اس کی شناخت کر لی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بچی کو چھوڑ کر جانے والے شخص کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ ویڈیو میں نمودار ہونے والے اس مشتبہ شخص نے جامنی رنگ کی قمیص اور سبز رنگ کا پاجاما پہن رکھا ہے۔