.

پاکستان: توہین رسالت قانون میں بالواسطہ ترمیم کی تجویز

تجویز پہلی بار ایک عالم نے دی، سلمان تاثیر بھی ترمیم کے حامی تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں توہین رسالت کے واقعات روکنے کے لیے بنایا گیا قانون ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ رہا ہے اور بالواسطہ طور پر اس میں ترمیم کے لیے پہلی بار بعض علماء بھی متحرک ہو رہے ہیں۔

اس سے پہلے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی اس قانون میں ترمیم کے حامی رہے ہیں ، لیکن بعد ازاں دونوں کو دو الگ الگ واقعات میں غیر فطری موت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب کی بار یہ آواز ملک کے ایک نامور دینی ادارے کے فارغ التحصیل سمجھے جانے والے طاہر اشرفی نے بلند کی ہے ۔ وہ مجوزہ ترمیم کو ایک نئے انداز سے لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے انسداد توہین رسالت کے قانون میں بالواسطہ ترمیم کے علاوہ اسلامی حدود قوانین میں طریقہ شہادت میں ترمیم کرتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو بھی حدود کیسز میں ضمنی نوعیت کی شہادت کے طور پر لینے کی تجویز پاکستان میں اسلامائزیشن کے لیے سفارشات مرتب کرنے والے سب سے اہم ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن کے طور پر پش کی ہے۔

اس سے پہلے ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کو اسلامی نظریاتی کونسل بنیادی شہادت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر چکی ہے۔ تاہم بدھ کے روز اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں ڈی این اے ٹیسٹ کو ایک ضمنی شہادت کے طور پر قبول کرنے پر آمادگی کے لیے مثبت اشارہ دیا گیا ہے ۔ حتمی رائے آج کے اجلاس میں سامنے آسکتی ہے۔

طاہر اشرفی کا موقف ہے کہ انسداد توہین رسالت کے قانون کے مبینہ غلاط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری ہے کی توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی اسی سزا کا سامنا کرنا پڑے جس کا توہین رسالت کے مرتکب کو کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کی اس تجویز کوعاصمہ جہانگیرایڈووکیٹ کی زیر سر پرستی چلنے والے انسانی حقوق کمیشن کی بھی تائید مل سکتی ہے۔ تاہم ابھی خود اسلامی نظریاتی کونسل میں اس تجویز کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل میں ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ توہین رسالت قانون کو چھیڑ کر عوامی ردعمل کو دعوت نہ دی جائے بلکہ الگ سے ایک نیا قانون بنانے کی وزارت قانون کو سفارش کی جائے جس میں توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے موت کی سزا تجویز کی جائے۔

ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے آج جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ان تجاویز پر زیادہ سیر حاصل بحث ہو سکتی ہے۔