.

مُلاّ عبدالغنی برادر کی ہفتے کو پاکستان میں رہائی کا اعلان

طالبان کے سابق نائب کماندار کو افغان حکام کے حوالے نہیں کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے افغان طالبان کے سابق نائب امیر مُلاّ عبدالغنی برادر کو ہفتے کے روز رہا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''افغانستان میں مصالحت کے عمل کو سہولت بہم پہنچانے کے لیے طالبان کے گرفتار رہ نما مُلاّ عبدالغنی برادر کو ہفتہ 21 ستمبر کو رہا کیا جارہا ہے''۔

مُلاّ عبدالغنی برادر کی رہائی کی خبریں گذشتہ ہفتے عشرے سے گردش کررہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے 10 ستمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے طالبان کے نائب کمان دار کو اسی ماہ رہا کردیا جائے گا اور اس ضمن میں اصولی فیصلہ ہوچکا ہے۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ مُلاّ برادر کو براہ راست افغانستان کے حوالے نہیں کیا جائے گا جیسا کہ بعض لوگ کابل میں امید لگائے بیٹھے ہیں بلکہ اس کے بجائے انھیں پاکستان ہی میں رہا کیا جائے گا۔

سرتاج عزیز نے پاکستانی روزنامے ڈان کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ مُلاّ برادر پاکستان ہی میں رہیں گے۔ البتہ اگر وہ خود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کہیں جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ از خود ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کو افغانستان کے حوالے کرنے سے وہ مقصد ہی فوت ہوجائے گا، جس کے لیے انھیں رہا کیا جارہا ہے۔

حکومت پاکستان اور افغان امن کونسل کے درمیان جنوری 2013ء میں اسلام آباد میں مذاکرات میں طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے تحت پاکستان میں زیرحراست تیرہ طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس سمجھوتے کا خیرمقدم کیا تھا لیکن طالبان کے ایک عہدے دار نے اس اقدام کو افغانستان میں قیام امن سے غیر متعلق قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

افغان حکومت ماضی میں پاکستان سے زیر حراست سنئیر طالبان لیڈروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس طرح جنگ زدہ ملک میں گذشتہ بارہ سال سے جاری خونریزی کے خاتمے اور قیام امن میں مدد مل سکتی ہے۔

یاد رہے کہ مُلاّ عبدالغنی برادر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے فروری 2010ء میں پاکستان کے فوجی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تب سے پاکستانی حکام کے زیر حراست ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کہاں قید رکھا گیا ہے؟

مُلاّ برادر طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے دست راست تھے۔ وہ ان چار لیڈروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے سنہ 1994ء طالبان تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ ماضی میں افغانستان پر قابض غیر ملکی فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ کی قیادت کرتے رہے تھے۔ افغان حکام اور امریکا کو توقع ہے کہ مُلاّ بردار ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی فوجوں کا 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے انخلاء مکمل ہوگا۔ اس سے قبل وہ افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں مگرغیر ملکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد طالبان کی امن عمل میں شرکت کے بغیر جنگ زدہ ملک میں قیام امن ایک خواب نظر آرہا ہے اور بظاہر افغانستان میں حالات کی بہتری کے امکانات کم ہیں۔