پاکستان نے طالب رہنما ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دیا

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان نے ہفتے کے روز طالب رہنما ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دیا ہے۔ یہ اقدام طالبان کے ساتھ افغانستان میں جاری مذاکرات میں پیش رفت کی خاطر اٹھایا گیا ہے۔

ملا عبدالغنی برادر طالبان کے سابق نائب سربراہ ہیں اور وہ 1994ء میں طالبان کی بنیاد ڈالنے والے چار افراد میں سے ایک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی قید میں موجود طالبان رہنمائوں میں سب سے زیادہ سینئیر طالب رہنما بھی تھے۔

اطلاعات کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ ملا برادر کس ملک کا رخ اختیار کریں گے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ سعودی عرب، ترکی یا متحدہ عرب امارات میں کسی ملک کا کا رخ کریں۔ افغان حکومت چاہتی تھی کہ انہیں افغانستان میں رہا کیا جائے تاکہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ مگر پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم رہا کردہ طالبان رہنمائوں کو اپنی قیادت سے رابطے کا موقع فراہم کریں تاکہ وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز یہ بتایا تھا کہ ملا برادر کی رہائی سے افغانستان میں نیٹو افواج کی واپسی کے بعد وہاں پر امن کے قیام کے لئے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت میں مدد ملے گی۔ ملا عبدالغنی کو جنوری 2010ء میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے سی آئی اے اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے مشترکہ آپریشن کے بعد حراست میں لیا تھا۔

ملا برادر کی حراست کے وقت سے ہی افغان حکام ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ ان کے مطابق اس حراست کے عمل میں آنے سے امن مذاکرات کا سلسلہ بالکل ہی رک گیا تھا۔ افغان حکام طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہ رہے ہیں مگر طالبان کرزئی حکومت کو امریکیوں کی کٹھ پتلی حکومت قرار دے کر امریکا ہی سے مذاکرات چاہتے ہیں۔

افغان اور پاکستانی حکام نے اس قدم سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ طالبان کی شوریٰ تک رسائی والے کسی شخص کے ذریعے مذاکرات کا پیغام بھیجیں گے تو شاید افغان طالبان ہتھیار ڈال کر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں۔

یاد رہے کہ ملا عبدالغنی برادر طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور ملا عمر ان کو اپنا بھائی یعنی برادر کا لقب بھی دے چکے ہیں۔

اس ساری پیش رفت کے باوجود کچھ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ساری کوششیں بے سود ثابت ہوں گی کیونکہ ملا برادر اب اس قید کی وجہ سے اپنا مقام کھو چکے ہیں۔ ایک طالبان عہدیدار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ،"ان کی حیثیت صرف ایک عام آدمی کی سی ہو گی جس کا طالبان کے نیٹ ورک میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہو گا۔"

کابل میں کرزئی حکومت کی قائم کردہ اعلیٰ افغان امن کونسل کے ایک رکن محمد اسماعیل قاسم یار نے ملا برادر کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو قوی امید ہے کہ ملا برادر کی رہائی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور قیام امن کے عمل میں اہم کردار ادا کرے گی۔

طالبان دور حکومت میں افغانستان کے وزیر خارجہ رہنے والے وکیل احمد متوکل نے بھی ملا برادر کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ملا برادر کے رہا کیے جانے کے بعد اس کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ متوکل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’پاکستانی حکام کو ملا برادر کو یہ اجازت دینا ہو گی کہ وہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کر سکیں اور افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں