.

فیس بک پر دوستی کا جھانسہ دیکر اغوا برائے تاوان میں ملوث گروہ گرفتار

سات افراد پر مشتمل گروہ ابتک لاکھوں روپے تاوان وصول کر چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی پولیس حکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلا کر تاوان کی خاطر اغوا کرنے والے ایک گروہ کو گرفتار کیا ہے۔

تفیصلات کے مطابق گروہ میں ایک خاتون بھی شامل تھی کہ جو فون پر دل موہ لینے والی گفتگو کے ذریعے نوجوانوں کو دوستی کا جھانسہ دیتی اور پھر ملاقات کے بہانے وسطی پنجاب کے ایک ضلع میں بلوا کر گینگ میں شامل دوسرے افراد کے ذریعے انہیں اغوا کرتی اور بعد میں اپنے شکار کی رہائی کے لئے لواحقین سے تاوان طلب کیا جاتا۔

ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا جو کہ محض ایک خاتون کی مدد سے فیس بک اور فون کی مدد سے نوجوانوں کو اپنے چکر میں پھسا کر ان کواغوا کر کے تاوان وصول کرتے تھے۔ اس گروہ میں ایک وکیل، اس کی بیوی، پولیس اہلکار کا بیٹا اور چار دوسرے افراد شامل تھے جو وسطی پنجاب کے صنعتی شہر گوجرانوالہ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ انہیں پولیس نے موبائل فون کال ٹریس کرنے کے بعد گذشتہ روز گرفتار کیا۔

پولیس کے سنیئر اہلکار شعیب خرم نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل دوستوں کا گروہ اپنی خاتون رکن کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلایا کرتا تھا۔ اس مقصد کے لئے وہ فیس بک اور پھر بعد میں ٹیلی فون کال کا بھی سہارا لیتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مجرم گروہ کے سربراہ وکیل کی اہلیہ فون اور فیس بک کے ذریعے نوجوانوں سے دوستی کا ڈرامہ رچاتی اور پھر شکار کا اعتماد حاصل ہونے کے بعد اسے ڈیٹ پر بلاتی۔ جال میں پھنسے والا شکار جب اس سے ملنے آتا تو گروہ کے دوسرے ارکان اسے اغوا کر لیتے۔

پولیس آفیسر شعیب خرم نے مزید بتایا کہ ابتک دو نوجوان مجرم گروہ کی خاتون رکن کی جعلی محبت کا نشانہ بن کر اغوا ہو چکے ہیں۔ ان یرغمالیوں کے لواحقین نے لاکھوں روپے تاوان دیکر جعلی پیار کے جال میں گرفتار ہونے والے اپنے عزیزوں کو رہا کرایا۔

یاد رہے پاکستان میں اس مہینے کے دوران سپریم کورٹ کے حکم پر موبائل کمپینوں کے لیٹ نائٹ سستے کال پیکج بند کرائے گئے جو بقول عدالت ایک قدامت پسند اسلامی ملک میں اخلاقی بے راہ روی سمیت منظم جرائم کا سبب بن رہے تھے۔

پاکستان میں سنہ دو ہزار دس میں فیس بک پر دو ہفتے کے لئے پابندی رہی کہ جب سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے ایک مقابلے کا انعقاد کیا تھا۔