.

ریپ کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت تسلیم کرنے سے انکار

اسلامی نظریاتی کونسل نے توہین رسالت قانون میں ترمیم بھی مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں مروجہ قوانین کو شریعت سے ہم آہنگ بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے ذمے دار آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے ریپ (جبری آبروریزی) کے کیسوں میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ البتہ اس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کوعدالت میں معاون شہادت کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی نے سوموار کو اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ معاون شہادت کے طور پر ایک مفید اور جدید تیکنیک ہے لیکن اس کو اکیلے بنیادی شہادت کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئی بھی قانونی عدالت دوسرے شواہد کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کو ایک معاون مواد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فیصلہ صادر کرسکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کونسل نے تحفظ حقوق نسواں ایکٹ مجریہ 2006ء کو بھی مسترد کردیا ہے کیونکہ اس کی تصریحات شریعت کے مطابق نہیں ہیں جبکہ ملک میں اس سے پہلے نافذ حدود آرڈی ننس میں خواتین کے خلاف تمام جرائم کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ اسلام نے جبری آبروریزی کے جرائم کے لیے ایک طریق کار وضع کردیا ہے۔ قبل ازیں اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں اس کے ارکان کی جانب سے ڈی این اے کو ریپ کیسز میں شہادت کے طور پر استعمال کرنے اور توہین رسالت کے قانون میں مجوزہ ترامیم سے متعلق پیش کردہ سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

گذشتہ دنوں پاکستانی میڈیا میں یہ اطلاع سامنے آئے تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالت کے الزام میں جھوٹا مقدمہ درج کرانے والے افراد کے لیے بھی سزائے موت تجویز کررہی ہے۔ کونسل کے ایک رکن علامہ طاہراشرفی سے منسوب یہ بیان شائع ہوا تھا کہ ''اس طرح کی ترمیم سے کسی بھی شخص کو اپنے ذاتی قضیوں کو چکانے کے لیے مذہب کو استعمال کرنے کی جرآت نہیں ہوگی''۔

تاہم مولانا شیرانی نے اپنی آج کی نیوزکانفرنس میں واضح کیا کہ توہین رسالت کے موجودہ قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں پہلے ہی ملکی قانون کو غلط طور پر استعمال کرنے والوں کے لیے سزائیں متعین ہیں۔ اس لیے جج حضرات اس طرح کے کیسوں میں متعلقہ دفعات کے تحت فیصلے سناسکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کونسل نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی رکن اجلاس میں ہونے والے کسی فیصلے کے بارے میں میڈیا میں کوئی تبصرہ نہیں کرے گا اور اس ضمن میں ادارے کی جانب سے پریس بریفنگ دی جائے گی یا کوئی بیان جاری کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل بھی ایک مشاورتی ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے مگر اس کو اپنی سفارشات پر عمل درآمد کا آئینی اختیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حال ہی میں خواتین کی جبری آبروریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور بعض آزاد خیال لکھاری اور خواتین کے حقوق کی علمبردار کاغذی تنظیمیں ڈی این اے ٹیسٹ کو ایسے کیسوں میں ملوث افراد کو سزائیں دلانے کے لیے بنیادی شہادت کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

دوسری جانب علمائے دین کا کہنا ہے کہ زنا بالجبر کے ملزموں کو سزائیں دلانے کے لیے اسلام کے قانون شہادت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کی صریح نص موجود ہے۔ البتہ اس کے بجائے پولیس کی تفتیش اور پراسیکیوشن کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی ملزم عدالت میں سزا سے نہ بچ سکے۔

لیکن بعض آزاد خیال لکھاری اور بزعم خویش دانشور پاکستان کے قانونی نظام میں موجود اس طرح کے اسقام کو دورکرنے کے بجائے اپنی جہالت کا عملی ثبوت دیتے ہوئے قرآن کی واضح تعلیمات پر مبنی اسلام کے قانون شہادت کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان میں بہت سے نام نہاد دانشور مغرب کی آلہ کارانسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے پروردہ ہیں اور ان کے خوان نعمت سے فیض یاب ہوکر دانش اغیار کی جگالی کررہے ہیں۔