.

پاکستان:جنوب مغربی علاقے میں تباہ کن زلزلہ،350 سے زائد افراد جاں بحق

زلزلے کی شدت 7.8 تھی، بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں منگل کی سہ پہر شدید زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں 350 سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ زلزلے سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکا کے جیالوجیکل سروے کی اطلاع کے مطابق زلزلے کی شدت سات اعشاریہ آٹھ تھی۔آج چار بج کر انتیس منٹ پر آنے والے اس تباہ کن زلزلے کا مرکز صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار سے قریباً ایک سو کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی 15 کلومیٹر تک تھی۔ زلزلے کا دورانیہ چھ سے دس سیکنڈ تک بتایا گیا ہے۔

جیالوجیکل سروے نے اس سے پہلے زلزلے کی شدت 7.4 بتائی تھی اور کہا تھا کہ اس کا مرکز 29 کلومیٹر زیرزمین تھا۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے حکام نے زلزلے کی شدت 7.7 بتائی ہے۔

صوبہ بلوچستان کا ضلع آواران اس شدید زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس نے کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زلزلے میں تیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آواران میں زلزلے سے تیس فی صد مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تباہ کن زلزلے سے صوبے کے دوردراز علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں اور وہاں تک امدادی سرگرمیوں کے لیے رسائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اس سے پہلے آواران کے ڈپٹی کمشنر عبدالرشید نے میڈیا کو بتایا کہ زلزلے سے لاتعداد مکانات تباہ ہو گئے ہیں اور امدادی ٹیمیں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کردی گئی ہیں جبکہ آواران،خضدار اور دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پاکستان آرمی کو بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیوں کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹر صوبہ بلوچستان کے زلزلے سے متاثر دوردراز علاقوں میں امدادی سامان کے ساتھ روانہ کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے جس علاقے میں یہ شدید زلزلہ آیا ہے،یہ زیادہ گنجان آباد نہیں ہے لیکن امریکی جیالوجیکل سروے نے ماضی میں اس علاقے میں آنے والوں زلزلوں کے اعدادوشمار کے حوالے سے کہا ہے کہ اس میں ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی ہے۔ پاکستانی حکام کا بھی کہنا ہے کہ شدید زلزلے سے ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ہے۔

زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے جھٹکے دوردراز علاقوں اور بھارتی دارالحکومت نئی دہلی تک محسوس کیے گئے ہیں۔ زلزلے سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ،کراچی اور دوسرے شہروں میں خوف وہراس پھیل گیا اور لوگوں اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق شدید زلزلے کے اثرات صوبہ سندھ میں دور تک محسوس کیے گئے ہیں۔ سمندر پار اومان اور بعض خلیجی ممالک کے علاوہ بھارت کے ساحلی شہروں اور قصبوں سے بھی زلزلے کی اطلاعات ملی ہیں۔

واضح رہے کہ اپریل میں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے میں 7.8 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان میں اکتالیس افراد جاں بحق اور بارہ ہزار سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے۔ اس تباہ کن زلزلے سے سیکڑوں مکانات اور عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔