.

پاکستان: زلزلے نے جزیرے کو جنم دے کر سینکڑوں جانیں لے لیں

دسیوں درجن مکان زمیں بوس، جزیرہ کئی فوسلز کے ساتھ بر سر آب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستاں کے زمینی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستاں میں دور افتادہ قصبوں اور دیہات میں جہاں منگل کے روز آنے والے زلزلے نے اب تک ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں سے ایک انسانی المیے کو جنم دیا ہے وہیں بندرگاہی شہر گوادر کے شمال مغرب میں سمندر کے عین بیچ میں قدرت کی صناعی کی ایک اور علامت ایک نئے جزیرے کی صورت کھڑی کردی ہے ۔ عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے بعد سمندر کے بیچ میں بھک سے ابھرنے والے دھویں اور گرد کے اڑنے کا احساس ہوا اور پھر ایک جزیرہ سامنے آ گیا،

کارخانہ قدرت میں تخلیق اور نمو پانے والے اس جزیرے کو دیکھ کر آنے والے گوادر کے مکینوں اور عینی شاہدین نے'' العربیہ'' کے ساتھ اس کے بارے میں دلچسپ حقائق شئیر کیے ہیں ۔ عینی شاہدین کے مطابق چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی اس نومولود جزیرے پر مختلف جگہوں سے وقفے وقفے سے بلبلے ابھرتے نظر آ رہے تھے۔

اس بیضوی شکل کے نومولود جزیرے کا رنگ مٹیالہ، ساخت، نسبتاً ٹھوس اور کہیں کہیں سے سخت چٹانی ہے۔ اونچائی بیس فٹ کے لگ بھگ اور پھیلاو دوسو میٹر کے قریب ہے۔ گیس جسے بعض عینی شاہدین میتھین اور بعض قدرتی گیس قرار دے رہے ہیں اس جزیرے کی مٹی میں شامل ہے۔

جزیرے سے ہو کر آنے والے گوادر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے ابھرنے والی گیس سے آنکھوں میں جلن محسوس ہوتی ، تاہم تھوڑی دیر تک اس کے قرب میں رہنے سے یہ جلن ناقابل برداشت نہیں ہوتی ہے۔

جزیرے پر جانے والے متعدد افراد نے سوئی سے نکلنے والی گیس کی بو جیسی بو محسوس کی اور کہا جزیرے سے نکلنے والی بو سے لگتا ہے سمندر میں اس جگہ پر گیس کا ذخیرہ ہے ۔ گوادر بندرگاہ پر کام کرنے والے ایک پاکستانی افسر منیر کلمتی کا کہنا تھا'' میں نے اپنے دوستوں کے ذریعے سامنے آنے والی اطلاعات کی موقع پر جا کر تصدیق کی ہے اور گیس کی بو کو سمجھنے کے لیے دیا سلائی جلائی تو گیس کے جلنے کا عمل شروع ہو گیا۔ ''

منیر کلمتی کے مطابق'' اس نئے ابھرنے والے جزیرے کی مٹی کا رنگ گوادر کی مٹی سے مختلف نہیں ہے ،تاہم سمندر سے ابھرنے کے باوجود اس میں ریت کا اثر نظر نہیں آتا ، مٹی کو دور سے دیکھا جائے تو اس کے گیلے پن کی وجہ سے '' مڈ'' یعنی گارے کا احساس ہوتا ہے لیکن اس جزیرے کے اوپر جانے سے ایسا ہر گز نہیں تھا کہ انسانی پاوں زمین میں دھنس جائے۔ بلکہ اس جزیرے پر سمندر کے زیریں حصے سے ابھر کر آنے والے فو سلز بھی موجود ہیں کچھ فوسلز چٹانی شکل میں ہیں ۔ ایک چٹان کا وزن چالیس پچاس کلو گرام یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں نئے جزیرے پر جانے والے گوادر بندرگاہ کے اس پہلے افسر کا کہنا تھا کہ ابھی اس جزیرے کا کسی اوشنو گرافر ماہر نے جائزہ نہیں لیا ہے ، نہ ہی بندرگاہ پر کوئی ایسا ماہر موجود ہے۔

اوشنوگرافی کے ماہرین کو موقع پر بھجوانا تو درکنار ابھی تک کسی اور متعلقہ محکمے کے ذمہ دار کی رسائی بھی ممکن نہیں بنائی گئی ہے ۔
منیر کلمتی کے مطابق اس ابھرنے والے جزیرے کی سطح سمندر سے اونچائی لگ بھگ بیس فٹ ہو سکتی ہے جبکہ گولائی لیے ہوئے اس نئے عجوبے کے مستقبل کے بارے میں فی الحال کہنا مشکل ہے کہ اس کی سطح آب پر موجودگی کب تک برقرار رہنے کا امکان ہو سکتا ہے۔

گوادر اور پشگاں کے درمیان اپنی گاڑی پر سمندر کے ساتھ ساتھ سفر کرنے والے ایک عینی شاہد کے بقول جب منگل کے روز ساڑھے چار بجے زلزلہ آیا تو چند لمحوں کے اندر اندر اسے سمندر کنارے سے کئی کلو میٹر دور عین سمندر میں اڑتی ہوئی گرد یا کچھ علاقے پر محیط دھواں دکھائی دیا ''ابھی میں اسی گو مگو میں تھا کہ آیا سمندر میں گرد و غبار یا بھک سے اڑنے والا دھواں کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے؟ کہ یکا یک سمندرکے پانیوں کو چیرتا ہوا ایک جزیرہ ابھر آیا۔

گوادر شہر کے مغربی کنارے پر کھڑے وسیع و عریض کوہ باتیل کے پاس سے کشتیوں اور موٹر بوٹس پر قدرت کے اس مظہر کو دیکھنے کے لیے جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ایک ایسے ہی شہری کا کہنا تھا کہ وہ کوہ باتیل کے قریبی ساحل سے اس جزیرے تک تقریبا 45 منٹ میں پہنچا ہے تاکہ قدرت کے اس کرشمے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔