لاہور میں دو روزہ عالمی کانفرنس برائے مسلم قائدین کا آغاز

کانفرنس کا اہتمام جماعت اسلامی پاکستان نے کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام اسلامی تحریکوں کی عالمی کانفرنس شروع ہوگئی۔ کانفرنس میں مصر، ترکی، مراکش، سوڈان، شام اور فلسطین کی اسلامی تحریکوں سمیت 22 ممالک کے 40 سے زائد سربراہوں اور نمائندوں نے شرکت کر رہے ہیں۔ افتتاحی اجلاس سے اخوان المسلمون اردن کے سربراہ حمام سعید، مراکش کی حکمران پارٹی کے سربراہ محمد الحمداوی اور حزب اسلامی ملائیشیا کے سربراہ عبدالہادی اوانگ نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت اس وقت جن مشکلات و مصائب سے دوچار ہے ان سے نجات حاصل کرنے کیلئے امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ پوری امت اس وقت آزمائش سے دوچار ہے اور اس لمحہ تاریخ میں اپنوں کے چہرے اور رویے دشمن سے خراب تر دکھائی دیتے ہیں۔ آزمائش کی اس گھڑی میں عالمی اسلامی تحریکوں کا اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سید منور حسن نے کہا کہ شام میں بشار الاسد نے عوام کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اسلامی رہنمائوں کو موت کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں لیکن مغرب و یورپ جس میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے بحث ہو رہی ہے، وہ بنگلہ دیش میں موت سزائوں پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، اراکان، کا بھی یہی معاملہ ہے۔ سولہ لاکھ سے زائد افراد کو غزہ میں محصور کر کے ان سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ امت مسلمہ کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اگر امت نے متحد ہو کر اسلام دشمن قوتوں کا راستہ روکنے کی کوشش نہ کی تو مظالم کی یہ داستان ختم نہیں ہو گی۔

جماعت اسلامی کے پریس ریلیز کے مطابق اخوان المسلمون اردن کے سربراہ حمام سعید نے اسلامی تحریکوں کی کانفرنس کے انعقاد پر جماعت اسلامی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج خوش بختی کے لمحات ہیں کہ مشرق سے مغرب تک کی اسلامی تحریکوں کے ذمہ داران اکٹھے ہیں۔ مصر میں عوام کی منتخب حکومت کو ایک سال بھی چلنے نہیں دیا گیا۔ بچوں اور عورتوں کو قتل کیا جا رہا ہے، سینکڑوں لوگوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مصری آمر السیسی کے ساتھ ساتھ صدر اوباما کے رویے اور پالیسیوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں ۔

مراکش کی حکمران پارٹی کے سربراہ محمد الحمداوی نے کہا کہ ہم انقلاب یا مظالم کی مذمت کرنے کے لیے نہیں بیٹھے، اسلامی تحریکوں نے اس مشکل گھڑی میں جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے عوام کو ایک حوصلہ ملا ہے اور مایوسی و ناامیدی کے اندھیرے چھٹے ہیں۔ ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے ہم نے کام شروع کردیا ہے۔ ظلم کا پرچم اٹھانے والوں نے امت کو موت کی نیند سلانے کا تہہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اللہ کے عذاب کا کوڑا برستا ہے اس سے پہلے بھی مسلمانوں کو اقتدار سے دوررکھنے کے لیے انتخابات میں دھاندلی اور دھونس کے حربے آزمائے جا چکے ہیں۔ تشدد کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتا۔ پرامن جدوجہد کے ذریعے تمام ہتھیاروں کو ناکام کیا جا سکتا ہے۔

حزب اسلامی ملائیشیا کے رہنما عبدالہادی اوانگ نے کہا کہ مسلمانوں پر پراکسی وار مسلط کر دی گئی ہے۔ ہم دوسروں کی جنگ کا بل ادا کر رہے ہیں۔ عالم اسلام کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے شیطانی قوتوں نے تمام حربے استعمال کیے جن کی ناکامی پر دشمن نے ہمارے اندر فرقہ بندی اور تعصب پیدا کر کے باہم دست و گریبان کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں