پاکستان: ہم جنس پرستوں کی ''غیراسلامی'' ویب سائٹ بلاک

ٹیلی مواصلاتی اتھارٹی کا انٹرنیٹ صارفین کی شکایات پر اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نے ہم جنس پرستوں کی ملک میں پہلی ویب سائٹ کو عوامی شکایات کے بعد اسلام کے منافی قرار دے کر بلاک کردیا ہے۔

پاکستان میں ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کی کمیونٹی کے افراد کے باہمی رابطے اور ان کے درمیان تجربات کے تبادلے کے لیے ''کویر پی کے ڈاٹ کام'' کے نام سے یہ ویب سائٹ بنائی گئی تھی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے ترجمان کامران علی نے بتایا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کی شکایات کے بعد اس ویب سائٹ تک رسائی کو بدھ سے بند کردیا گیا ہے کیونکہ قانون کے تحت اس کا مواد اسلامی تعلقات اور پاکستانی معاشرے کی اقدار کے منافی تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ہم جنس پرستی خلاف قانون ہے۔

کویر پی کے ڈاٹ کام کے ماڈریٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''وہ پی ٹی اے کی اس پابندی کو عدالت میں چیلنج نہیں کریں گے کیونکہ اس سے منفی ردعمل کا خطرہ ہے''۔ انھوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس ویب سائٹ کے ذریعے ان لوگوں کو ایک پلیٹ مہیا کرنا چاہتے تھے جنھیں معاشرے نے ان کی جنسی پسند کی بنا پر نظرانداز کردیا ہے لیکن میں ویب سائٹ کے مستقبل کے بارے میں کوئی زیادہ پُرامید نہیں تھا اور یہ توقع کررہا تھا کہ اس کو جلد یا بدیر بند کردیا جائے گا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''اس سائٹ کے ممبرز کی تعداد ملی جلی تھی۔ان میں 44 فی صد نے خود کو خواتین اور 56 فی صد نے خود کو مرد کے طور پر متعارف کرایا تھا'' مگر ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے صارف نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد محض چسکے بازی کے لیے اپنی جنس اور شناخت تبدیل کرلیتی ہے اور وہ لڑکیاں بن کر اپنے ہی ہم جنسوں سے انٹرنیٹ پر گھنٹوں گفتگو کرتے رہتے ہیں اور اپنے ہم کلام کی سرگرمیوں سے متعلق تمام خفیہ معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔

امریکا میں قائم پیو ریسرچ سنٹر کے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق حال ہی میں انتیس ممالک کا ہم جنس پرستی کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا ہے،اس کے مطابق پاکستان ان تمام ممالک میں ہم جنس پرستی کے معاملے میں سب سے کم روادار ملک تھا۔

سنہ 2011 ء میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں (گئے) کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ اس پر ملک بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے شمال مغرب میں افغان سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں قدیم سے اغلام بازی کی روایت چلی آ رہی ہے اور آج کے جدید دور میں بھی اس جاہلانہ، غیرفطری اور غیر اسلامی رسم کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے۔

ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاص طور پر ٹرک ڈرائیور حضرات نوعمر لڑکوں کو جنسی مقاصد کے لیے اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ایسے لڑکوں کی بالعموم مسیں بھیگیں نہیں ہوتی ہیں۔ غربت کا شکار والدین انھیں روزگار کے لیے معاشرے کے سپرد کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ شاہراہوں کے کنارے قائم ہوٹلوں، ٹرک اڈوں یا بس اڈوں پر جو سلوک ہوتا ہے، اس کی تفصیل کم ہی منظرعام پر آتی ہے۔ اس عمل سے گزر کر جب وہ خود جوان ہوتے ہیں تو وہ خود بھی اس طرح کی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن اس مرتبہ وہ مفعول کے بجائے فائل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے بعض قدامت پرست علاقوں میں اغلام بازی کو معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں