صوبہ بلوچستان اور سندھ میں ایک اور شدید زلزلہ، 8 افراد جاں بحق

ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.2 تھی، آواران میں مزید تباہی اور ہلاکتوں کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور سندھ میں ہفتے کی دوپہر ایک اور شدید زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ریختر اسکیل پر اس کی شدت 7.2 تھی۔ تین روز پہلے اسی علاقے میں شدید زلزلے میں پانچ سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

صوبہ بلوچستان کی حکومت کے ترجمان امجد بلوچ نے بتایا ہے کہ ضلع آواران کا ایک گاؤں نوک جو کا بیشتر حصہ شدید زلزلے کے بعد ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے اور پندرہ سے بیس ہزار آبادی والے اس گاؤں میں گارے سے بنے 60 مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔انھوں نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

آواران کے ڈپٹی کمشنر رشید بلوچ نے بتایا کہ نوک جو دوردراز علاقے میں واقع ہے اور مواصلاتی نظام تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں امدادی ٹیمیں سامان کے ساتھ روانہ کردی گئی ہیں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سربراہ محمد ریاض نے بتایا ہے کہ زلزلے کا مرکز صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار سے 150 کلومیٹر مغرب میں تھا۔امریکا کے ارضیاتی سروے نے ریختر اسکیل پر اس مابعد زلزلے کی شدت 6.8 بتائی ہے اور اس کا مرکز آواران سے 96 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔اس کی گہرائی چودہ کلومیٹر زیرزمین تھی۔ البتہ اس کا دورانیہ زیادہ نہیں تھا۔اس کے جھٹکے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینلز نے کوئٹہ اور کراچی میں زلزلے کے بعد لوگوں کی خوف وہراس کے عالم میں اسپتالوں ،دفاتر اور گھروں سے باہر کھلے میدان میں نکلتے ہوئَے فوٹیج نشر کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ارکان افراتفری کے عالم میں اجلاس چھوڑ کر باہر نکل آئے اور اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

قومی زلزلہ پیما مرکز کے ڈائریکٹر زاہد رفیع نے بتایا ہے کہ ''یہ زیادہ شدت کے آفٹرشاکس ہیں اور ایسے مزید زلزلوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔ملک کے بڑے شہروں کراچی، کوئٹہ، لاڑکانہ، جیکب آباد، خیرپور، نصیرآباد ،سکھر، مستونگ اور خاران میں اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں''۔

منگل کو شدید زلزلے سے صوبہ بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ پاکستان کے سرکاری حکام نے اب تک اس تباہ کن زلزلے میں 515 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مرنے والوں کی تعداد سات سو سے زیادہ ہے اور آٹھ سو سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ مکانات اور جھونپڑے تباہ ہونے کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

بلوچستان میں زلزلے کی تباہ کاریوں سے متعلق ابتدائی جائزہ رپورٹ کے مطابق ضلع آواران میں تیس سے چالیس فی صد مکانات اور عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ دواور اضلاع مشخیل اور ملار بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔وہاں زلزلے کی تباہ کاریوں کی شرح 80 سے 90 فی صد ہے۔

زلزلہ زدہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان ہیلی کاپٹروں کے ساتھ امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ دوردراز علاقوں میں واقع دیہات اور بستیوں تک امدادی سامان پہنچا رہے ہیں۔اس دوران مسلح دہشت گردوں نے پاک فوج کے دو ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ ان حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔

بلوچستان اور سندھ کے زلزلہ زدہ علاقوں میں جمعہ کو بھی شدید آفٹر شاکس آئے تھے۔ریختر اسکیل پر اس کی شدت پانچ بیان کی گئی تھی۔اس مابعد زلزلے کا مرکز اورماڑہ تھا اور اس کی گہرائی دس کلومیٹر زیرزمین تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں