.

تاریخ کا سبق اور ہماری حماقتیں

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ لازمی طور پر یوٹیوب کھولنا چاہتے ہیں تو کسی پراکسی ویب سائٹ کی مدد سے کھول لیں اور ’’شریف ٹاور‘‘ لکھیں۔ آپ کو مشرقی لندن میں ایک بلند پلازہ دکھائی دے گا۔ یہ مبینہ طور پر ہمارے موجودہ حکمرانوں .....ہمارے نجات دھندوں کی قابل ِ فخر جائیداد ہے۔ مجھے اس پلازے کا حالیہ دنوں میں ہی علم ہوا ہے، کچھ لوگ اسے بہت پہلے سے جانتے تھے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو سب سے پہلے میرا دل ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناتے غصے سے کھول اٹھا کہ جب پاکستان اتنے دشوار حالات کا شکار ہے تو کیا اس کے حکمران کہیں بس کریں گے؟پھر میں اپنے اس احمقانہ خیال پر قہقہے لگانے لگا کیونکہ پاکستان کی اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہاں جتنی مرضی معاشی مشکلات ہوں، نہ عوام کے صبر کا پیمانہ کبھی لبریز ہوتا اور نہ ہی حکمران طبقے کی خواہشات کا دامن سمٹتا ہے۔ عام انسان سوچتے ہیں کہ ان اشراف کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ ’ہل من مزید ‘کے داعی ہوتے ہیں۔ یہ ہیں وہ رہنما جو حب الوطنی کے جذبات کو ابھارتے ہوئے غیر ملکیوں اور تارکین ِ وطن سے کہتے ہیں کے وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں جبکہ وہ خود اتنے ’’دانشمند ‘‘ ضرور ہیں کہ اپنے سرمائے کو بیرونی ممالک میں محفوظ رکھیں۔ پارک لین فلیٹس کے چرچے تو پہلے سے ہیں ہی اب ٹاورز آف الفورڈ کی کہانیاں بھی چل رہی ہیں پاکستان کے حالات پر جتنے مرضی آنسو بہالیں، لندن میں پراپرٹی خریدنے کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ نیب کے پاس ان کے مقدمات کے ثبوت ہیں۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ مشرف دور حکومت میں موجودہ وزیر خزانہ نے سرکاری تحویل میں اس حوالے سے بتایا تھا۔ ان کی طرف سے کئے گئے افشائے راز کا ریکارڈ آج بھی کہیں موجود ہو گا لیکن چونکہ اب ان کی اپنی حکومت ہے، اس لئے کس کی ہمت ہے کہ اس پر نظر بھی ڈالے؟

تاہم جن افراد کی ہم بات کررہے ہیں، وہ اتنے احمق ہر گز نہ تھے کہ بنک کا تمام قرضہ ادا کر دیتے۔ الزام ہے کہ کئی عشروں سے نیشنل بنک اور دیگر مالیاتی اداروں سے لیا گیا قرضہ مختلف بہانوں سے واپس نہیں کیا گیا۔ بہرحال یہ باتیں پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں چناچہ انہیں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے اگر اس پس منظر میں لندن میں ایک اور پلازہ خرید لیا گیا ہے تو کوئی بات نہیں..... دوستوں کے درمیان سب چلتا ہے۔جو افراد اتنے چالاک ہوں، انہیں احمق یا سادہ لوح کیسے کہا جاسکتاہے؟جب کسی شخص کو اپنے نفع نقصان کا علم ہو تو اُسے احمق کہا بھی نہیں جا سکتا۔ ان سب باتوں کے باوجود خود کو قوم کا نجات دہندہ قرار دینا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس پر قائل کرلینا یقینا ایک غیر معمولی ہنر ہے۔ یہ ہما شما کے بس کی بات نہیں۔ اصل معاملہ یہ ہوا کے مشرف کے بعد آنے والے حکمرانوں، زرداری اور ہمنوا نے بدعنوانی کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں کہ ان کے مقابلے میں موجودہ حکمران معصوم دکھائی دینے لگے۔بالکل جس طرح عمران خاں کے مقابلے میں وہ دانائی کے پیکر لگتے ہیں!ان تمام سیاست دانوں کے مقابلے میں پرویز مشرف اب نہایت اعلیٰ پائے کا مفکر دکھائی دیتا ہے۔ شنید ہے کہ وہ ایک اور کتاب لکھنے والے ہیں.....خدا سب کا حامی و ناصر ہو۔

بہرحال یہ ہیں قوم کے نجات دہندہ گروہ اور ہم ان سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ قوم، جس کو دہشت گردی اور معاشی بحران نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، کی کایا پلٹ دیںگے۔ اس قوم کی تقدیر پر دل ماتم کناں ہے.....پہلے زرداری، اب نواز شریف اور عمران خاں، اس کے چوٹی کے رہنما ہیں جبکہ عملی میدان تحریکِ طالبان پاکستان، حکیم ﷲ محسود اور بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کے ہاتھ ہے۔ پی پی پی کو تباہ کرنے میں آصف زرداری کو پانچ سال لگ گئے اور یہ کام تھا جو جنرل ضیا بھی نہیں کر سکے لیکن موجودہ حکومت کی حقیقت سو دنوں میں عوام پر منکشف ہو گئی ہے۔ عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ ملک جن مسائل کا شکار ہے، اس سے نمٹنے کی صلاحیت سے موجودہ حکمران مکمل طور پر عاری ہیں۔ اسحاق ڈارکی آنکھوں کے سامنے روپیہ تیزی سے اپنی قدر کھو رہا ہے اور حکمرانوں کو رتی بھر فہم نہیں ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ کیا ہے اور اس سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے۔ عملی اقدامات چھوڑیں ڈھنگ سے بیان دینا بھی ان کے بس سے باہر ہے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ اس حکومت میں تاجر اور لٹیرے سرمایہ دار خوش ہیں۔ یہ ان کی اپنی حکومت ہے کیونکہ یہ ان کے مفاد کا تحفظ کررہی ہے جبکہ باقی ملک کا ناطقہ بند ہو چکا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے تو روپیہ اتھاہ گہرائیوں کی طرف محو ِ سفر ہے ۔ ہر ماہ بجلی کا بل عوام پر نئی بجلیاں گراتا ہے۔

ان سب حقائق سے قطعِ نظر یہ تاثر مل رہا ہے کہ وزیراعظم کی توجہ صرف ایک چیز پر ہی مرتکز ہے کہ وہ کسی طور اپنے بھارتی ہم منصب، جو اس وقت عملی طور پر اپنے ملک میں سیاسی طور پر بے وقعت ہو چکے ہیں، کو راضی کر لیں۔ اگر ہمارے وزیراعظم کی عالمی حالات پر نظر ہو تو وہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت منموہن سنگھ کو اُن کی اپنی جماعت بھی سنجیدگی سے نہیں لیتی ہے جبکہ بھارتی میڈیا ان کو ایک مزاحیہ خاکے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہمارے دانا وزیراعظم صاحب ان سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ جتنے مرضی صفر ہو، ان کا حاصل ِ جمع صفر ہی ہوتا ہے۔ تاہم یہ بات انہیں اور ان کے گرد ماہرین کے جم ِ غفیر کو کون سمجھائے؟ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہر چیز کاایک مقام اور وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بھارت نہیں ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ ہمارے مسائل اس قسم کے ہیں جو راتوں رات طے پاسکتے ہیں۔ اس کے برعکس جن مسائل کا سامنا ہمیں اپنے ملک میں ہے جیسا کہ دہشت گردی کاخاتمہ، قوم کی بجھی ہوئی آتش ِ شوق کو نئی شعلگی دینا، لیپ ٹاپ دینے کے بے سروپا منصوبوں سے اجتناب کرتے ہوئے معیشت کو درست سمت پر لانا ،زیادہ اور فوری توجہ کے مستحق ہیں، لیکن جس دوران دہشت گرد پشاور میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، ہمارے وزیراعظم نیویارک میں تقاریر اور ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور پاکستانی وزیراعظم کے پاس وقت ہی وقت ہے۔ چلیں یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف سے بہت سی حماقتیں سرزد ہوئیں لیکن نواز شریف تو تجربہ کار سیاست دان تھے لیکن ان کی کارکردگی سے اس تجربے کی کوئی جھلک نہیں ملتی ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کی ترجیحات ہی غلط ہیں۔

جس طرح پی پی پی کو تباہ کرنے میں زرداری صاحب کو پانچ سال لگ گئے، کیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بھی یہی حشر ہونے جارہا ہے؟کیا ہماری تاریخ کا دھارا اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں حقائق کا بے مروت پن سب کچھ اجاگر کرنے کے درپے ہوجاتا ہے؟کیا اب خفیہ اداروں کی نااہلی اور سیاست دانوں کی بدعنوانی کے طشت ازبام ہونے کے دن آگئے ہیں؟ چلیں اب سب کا بھرم کھل بھی جائے تو کیا ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے؟ میں یہ دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا ہوں کہ لوگ کثرت سے پوچھنے لگے ہیں کہ کیا ملک قائم رہ پائے گا؟ہو سکتا ہے کہ آپ اجنبیوں کے درمیان کھڑے ہوں لیکن وہاں بھی اسی سوال کا ہی اعادہ ہوگا۔ میں خود سے کہتا ہوں کہ یہ احمقانہ سوال ہے لیکن جب میری سوچ یوگوسلاویہ کے حالات کا جائزہ لیتی ہے تو دل ڈوب جاتا ہے۔ جب ہم جوان تھے تو یوگوسلاویہ ایک طاقتور ملک تھا۔ اس کے لیڈر مارشل ٹیٹو (Tito) عالمی افق پر ایک قد آور شخصیت تھے۔ اُنھوں نے دوسری جنگ ِ عظیم میں جرمن فورسز کو چیلنج کیا تھا اور پھر اسٹالن کے سامنے بھی پورے قد سے کھڑے رہے تھے۔ اگر اُس وقت کوئی مجھے یہ کہتا کہ یوگوسلاویہ کا شیرازہ بکھرنے والا ہے تو میں اُسے پاگل سمجھتا۔ میں نے ستر کی دہائی میں ماسکو میں خدمات سرانجام دی تھیں۔ اس وقت سوویت یونین بہت طاقتور ملک تھا۔ کریملن کے گرد گلیوں میں لگے ہوئے پتھر بھی رعب و دبدبہ رکھتے تھے۔ جب اندرے گرومیکو (Andrei Gromyko) ،سوویت یونین کے وزیر ِ خارجہ، کوئی بیان دیتے تو دنیا ہمہ تن گوش ہو کر سنتی۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ ایسا عقربی ملک بہت جلد جغرافیہ سے نکل کر تاریخ کا حصہ بننے والا ہے۔ یہ سب کچھ قدیم تاریخ نہیں بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والے واقعات ہیں۔ ان پر نظر دوڑاتے ہوئے سوچ کا زہریلا ناگ ذہن کو ڈستا ہے کہ کیا تاریخ کا بے رحم دھارا ہماری تمام تر حماقتوں اور بے عملیوں کے باوجود ہمیں بخش دے گا؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.