طالبان کمانڈروں کا پشاور میں سابق نائب امیر سے ملاقات سے انکار

ملاّ برادر کے ارد گرد پاکستانی انٹیلی جنس حکام کی موجودگی پر شُبہات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغان طالبان نے پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں اپنے سابق نائب امیرملاّ عبدالغنی برادر سے ملنے سے انکار کردیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ان کے کے ساتھ پاکستان کے سکیورٹی ایجنٹس موجود ہیں۔

افغانستان اور امریکا کو یقین ہے کہ ملاّ عبدالغنی برادر کے پاس جنگ کے خاتمے کی کلید ہےاور وہ طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لا کر جنگ بندی پر آمادہ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ ماضی بااثر رہے ہیں لیکن طالبان کمانڈروں نے ان سے ملاقات سے ہی انکار کردیا ہے اور یہ پاکستان کی افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

ملاّعبدالغنی برادر ؁ 2010ء سے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے زیرحراست تھے اور انھیں 20 ستمبر کو رہا کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد بھی وہ سکیورٹی ایجنٹوں کے حصار میں ہیں اور ان کی نقل وحرکت کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔اس لیے ان کا امن کے کلید بردار کے طور پر کردار متاثر ہوسکتا ہے۔

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے بھی ان شبہات کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان شخصیات نے ملاّ برادر سے پشاور میں ملاقات سے انکار کردیا ہے کیونکہ ان کے ساتھ پاکستان کے سکیورٹی حکام موجود ہیں۔

ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ملاّ عبدالغنی نے اپنی رہائی کے بعد کچھ وقت کراچی میں گزارا ہے اور اب وہ طالبان تحریک کے سنئیر لیڈروں سے ملاقاتوں کے لیے پشاور آ گئے ہیں لیکن کسی بھی سنئیر طالبان لیڈر نے ان سے ملاقات سے اتفاق نہیں کیا ہے کیونکہ ان کے اردگرد سکیورٹی اہلکار موجود ہیں''۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ملاّ عبدالغنی برادر کس سے ملاقات کرنا چاہتے تھے یا پشاور میں وہ کتنی دیر قیام کریں گے۔دو پاکستانی سکیورٹی عہدے داروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ پشاور میں موجود ہیں۔تاہم ابھی باضابطہ امن بات چیت شروع نہیں ہوئی ہے۔

ملاّ عبدالغنی برادر طالبان کے دور حکومت میں امیر ملاّ محمد عمر کے دست راست رہے تھے اور انھوں نے انھیں اپنا بھائی قرار دے رکھا تھا۔وہ افغان صدر حامد کرزئی کے قبیلے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔افغانستان انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ آزاد ہیں اور انھیں افغانستان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔البتہ اگر وہ خود اپنے وطن جانا چاہیں تو وہ جاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں